LIVE
Loading Breaking News...

وارن بفیٹ اور الفابیٹ اسٹاک: دوسری سہ ماہی میں بڑی سرمایہ کاری

News Image
برکشائر ہیتھ وے نے سال کی دوسری سہ ماہی میں الفابیٹ کے کروڑوں حصص خرید کر اپنے پورٹ فولیو کو وسعت دی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر نامور سرمایہ کاروں نے بھی اس معروف ٹیکنالوجی کمپنی میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا کے مشہور سرمایہ کار وارن بفیٹ ہی وہ واحد شخصیت نہیں ہیں جنہوں نے الفابیٹ (گوگل کی بنیادی کمپنی) کے حصص میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔ برکشائر ہیتھ وے کی جانب سے سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران الفابیٹ کے لاکھوں حصص کی خریداری نے مارکیٹ کا رخ اس کمپنی کی طرف مزید موڑ دیا ہے۔ یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ دنیا کے چوٹی کے سرمایہ کار اب بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مستقبل پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، برکشائر ہیتھ وے نے دوسری سہ ماہی میں اپنے پورٹ فولیو میں الفابیٹ کے حصص کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے یہ ان کی تیسری سب سے بڑی ہولڈنگ بن گئی ہے۔ اس بڑی سرمایہ کاری کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے، جو کہ کمپنی کی طویل المدتی ترقی کی صلاحیت پر سرمایہ کاروں کے پختہ یقین کو ظاہر کرتی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک لحاظ سے یہ فیصلہ برکشائر کے روایتی سرمایہ کاری کے انداز میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ روایتی طور پر وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں احتیاط برتتے رہے ہیں۔ وارن بفیٹ کے علاوہ دیگر ممتاز ارب پتی سرمایہ کاروں اور ہیج فنڈ مینیجرز نے بھی اسی عرصے کے دوران الفابیٹ میں نئی پوزیشنز لی ہیں یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری کو بڑھایا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گوگل کا بنیادی کاروباری ماڈل، مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اس کی پیشرفت، اور ڈیجیٹل اشتہارات سے ہونے والی مستحکم آمدنی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے بڑے فیصلوں سے دیگر چھوٹے اور متوسط سرمایہ کاروں کا بھی حوصلہ بڑھتا ہے جو ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے اثاثے بڑھانا چاہتے ہیں۔ مجموعی طور پر، الفابیٹ کے حصص میں یہ بڑی خریداری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ اقتصادی چیلنجز کے باوجود مضبوط اور مستحکم فنڈامینٹلز رکھنے والی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے پہلی ترجیح بنی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے رجحانات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے ہی اپنے فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ وہ طویل مدت میں بہتر منافع حاصل کر سکیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں کے منافع اور شیئر کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہے یا نہیں۔