World
اسرائیل کا حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ حالیہ حملوں میں مزید ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ فریقین کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے اور عسکریت پسند تنظیم کو سختی سے نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ہونے والے شدید اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنان میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ سرکاری ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں ہونے والے ان حملوں کو حالیہ مہینوں کے خونریز ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جن سے عام شہریوں اور انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی عسکری حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں ایک اہم کارروائی کے دوران حزب اللہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو نشانہ بنایا اور اسے ہلاک کر دیا ہے۔ ان حملوں اور دعووں کے بعد دونوں اطراف سے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ سیز فائر کی کوششوں کے باوجود زمینی حقائق انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس صورتحال سے پورے خطے میں ایک بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری یہ تنازعہ اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں فریقین کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان تازہ ترین فضائی حملوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور خطے کو طویل المدتی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال سفارتی سطح پر کسی بڑی پیشرفت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔