LIVE
Loading Breaking News...

مصطفی کمال کا دعویٰ: نئے صوبوں کی ترمیم رانا ثناء اللہ کی لاعلمی میں آئے گی

News Image
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ نئے صوبوں کے حوالے سے آئینی ترمیم رانا ثناء اللہ کو بتائے بغیر پیش کی جائے گی۔ اس سیاسی بیان کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے حال ہی میں ایک اہم سیاسی بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام یا اس سے متعلقہ آئینی ترامیم کا معاملہ اس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ کو بھی اس کی مکمل خبر نہیں ہوگی۔ مصطفی کمال کے اس بیان نے ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ رانا ثناء اللہ حکومت کے اندر ایک اہم اور با اثر سیاسی شخصیت مانے جاتے ہیں۔ مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی نارضگی اس مقام پر ظاہر کرنی چاہیے جہاں سے اس معاملے کی ابتدا ہوئی ہے۔ دوسری جانب، سندھ کے صوبائی وزراء اور رہنماؤں کی طرف سے بھی اس معاملے پر مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں جن میں سندھ کے عوام کے حقوق اور صوبائی خودمختاری پر زور دیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت کے ترجمان سعید غنی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ سندھ کے عوام اپنے حقوق کے لیے اکیلے کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کی جائے گی جو صوبے کے مفادات کے خلاف ہو۔ اس کے علاوہ، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی لفظی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے جبکہ بعض رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے اندر موجود اتحادی جماعتوں کے درمیان اس قسم کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زیرِ غور امور پر اتحادیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔