LIVE
Loading Breaking News...

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ

News Image
امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یوایس ایس جارج واشنگٹن مغربی بحر الکاہل سے روانہ ہو گیا ہے جو مشرق وسطیٰ میں تعینات یوایس ایس لنکن کی جگہ لے گا۔ اس اہم فوجی اقدام کا مقصد خطے میں امریکی موجودگی کو برقرار رکھنا اور سکیورٹی خدشات سے نمٹنا ہے۔
امریکی بحریہ کا ایک طاقتور طیارہ بردار جہاز 'یو ایس ایس جارج واشنگٹن' مغربی بحر الکاہل سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہونے کے لیے نکل پڑا ہے۔ اس جہاز نے ویتنام کے بندرگاہی شہر دا نانگ سے اپنی روانگی کا آغاز کیا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ خطے میں پہلے سے موجود 'یو ایس ایس لنکن' کی جگہ سنبھالے گا۔ پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد خطے میں امریکی بحری طاقت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی امور کو مانیٹر کرنا ہے۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کے امور اور سمندری گزرگاہوں میں کشیدگی کا عنصر بدستور برقرار ہے۔ امریکی دفاعی حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مناسب فضائی اور بحری صلاحیت ہم وقت موجود ہو۔ 'یو ایس ایس جارج واشنگٹن' اپنے ساتھ جدید ترین لڑاکا طیارے اور تربیت یافتہ عملہ لے کر چل رہا ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل اس جہاز نے ایشیا پیسیفک کے خطے میں مختلف اتحادی ممالک کے ساتھ بحری مشقوں میں بھی حصہ لیا تھا، جس کا مقصد خطے کے امن اور استحکام کو فروغ دینا تھا۔ دوسری جانب، 'یو ایس ایس لنکن' جو طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں فرائض انجام دے رہا تھا، اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اپنے آبائی اڈے کی طرف واپسی کا سفر شروع کرے گا۔ بحریہ کے اس ردوبدل سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ مسلسل اپنے اثاثوں کی گردش کے ذریعے تیاری کی اعلیٰ ترین سطح کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کی طویل المدتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔