LIVE
Loading Breaking News...

مشرقی وسطیٰ میں ٹرانزیکشنل ڈپلومیسی اور امریکی خارجہ پالیسی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی ذاتی تعلقات اور دو طرفہ معاہدوں پر مبنی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد خطے کے دیرینہ اور پیچیدہ تنازعات کو مرحلہ وار معاہدوں کے ذریعے حل کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران مشرق وسطیٰ کے لیے ان کا طرزِ عمل اس بنیادی مفروضے پر کھڑا ہے کہ ذاتی تعلقات اور ترتیب وار دو طرفہ معاہدے ایک ایسے خطے میں نظم و ضبط قائم کر سکتے ہیں جو روایتی انقلابی نظریات، فرقہ وارانہ تقسیم اور گہرے پراکسی نیٹ ورکس کی وجہ سے طویل عرصے سے غیر مستحکم چلا آ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ نئی حکمت عملی روایتی کثیر جہتی سفارت کاری کے برعکس براہ راست سودے بازی اور تجارتی نوعیت کے معاہدوں پر زور دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اپروچ کا مقصد خطے کے ممالک کے ساتھ انفرادی بنیادوں پر اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ مشرق وسطیٰ کا خطہ جو کہ دہائیوں سے پیچیدہ سیاسی بحرانوں اور جنگوں کی زد میں ہے، اس نئی حکمت عملی کے تحت ایک بڑے سفارتی اور اقتصادی امتحان سے گزر رہا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ ذاتی تعلقات اور معاشی مراعات کے ذریعے روایتی دشمنیوں کو پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عارضی اور محدود معاہدے خطے کے بنیادی اور دیرینہ مسائل کا مستقل حل فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ دیکھنا بھی باقی ہے کہ آیا یہ ٹرانزیکشنل اپروچ ایران اور اس کے اتحادی نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی طاقتوں کے مفادات کے توازن کو برقرار رکھنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔ حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی اب طویل مدتی نظریاتی وابستگیوں کے بجائے قلیل مدتی اور نتیجہ خیز سودوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے، جس کے دور رس اثرات مشرق وسطیٰ کے مستقبل پر مرتب ہوں گے۔