LIVE
Loading Breaking News...

فورڈ اور جنرل موٹرز کی امریکی حکومت سے ٹیرف میں بہتری کی کوششیں

News Image
ڈیٹرائٹ کی مشہور حریف آٹوموبائل کمپنیاں فورڈ اور جنرل موٹرز امریکی حکومت کی نئی تجارتی پالیسیوں میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں۔ دونوں کمپنیاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان میں سے کون سا ادارہ زیادہ امریکی مفاد کا امین ہے۔
ڈیٹرائٹ کی تاریخ کی طویل ترین کاروباری دشمنی نے اب تجارتی جنگ کے میدان میں ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ جیسے جیسے ریاستہائے متحدہ امریکہ اپنی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف کے نظام میں تبدیلیاں لا رہا ہے، آٹوموبائل کے دو بڑے دیہات فورڈ اور جنرل موٹرز کے درمیان اس بات پر رسہ کشی شروع ہو گئی ہے کہ کون سی کمپنی حکومت سے بہتر شرائط اور مراعات حاصل کرتی ہے۔ دونوں کار ساز ادارے اس کوشش میں ہیں کہ خود کو زیادہ 'امریکن' آٹوموبائل بنانے والا ادارہ کہلوائیں تاکہ حکومتی سطح پر ان کے کاروباری مفادات کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔ موجودہ حالات میں جب شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدوں پر نظرثانی کی جا رہی ہے، یہ کاروباری مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے لیے حکومتی ٹیرف کی پالیسیاں ان کے مستقبل کے مالیاتی حاشیے اور پیداخوار کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ فورڈ اور جنرل موٹرز کے اعلیٰ حکام اس بات کے لیے سرگرم ہیں کہ پالیسی سازوں کو قائل کیا جائے کہ ان کے سپلائی چین کے ماڈلز ملک کی معیشت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں۔ اس تمام صورتحال میں امریکی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے محصولات اور تجارتی مراعات کا فیصلہ دونوں کمپنیوں کے لیے کرنسی کی طرح اہم ہے۔ آٹو انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تجارتی جنگ آنے والے دنوں میں مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے کیونکہ دونوں کمپنیاں گھریلو مارکیٹ میں اپنے حصے کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور معاشی حربہ آزما رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ٹیرف کے حتمی نفاذ کے بعد ہی واضح ہو گا کہ اس معرکے میں کون سی کمپنی فتح یاب ہوتی ہے اور کس کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑتی ہے۔