Technology
میٹا کے چہرہ شناخت کرنے والے سمارٹ چشمے اور نئی پیٹنٹ فائلنگ
میٹا کی جانب سے امریکی ادارے میں دائر کردہ نئی پیٹنٹ درخواست سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی اپنے متنازع سمارٹ چشموں میں چہرہ شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ قدم ٹیکنالوجی کی دنیا میں پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔
امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں جمع کروائی گئی ایک نئی دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ معروف ٹیک جائنٹ میٹا (Meta) اپنے سمارٹ چشموں میں چہرہ شناخت کرنے یعنی فیشل ریکگنیشن (Facial Recognition) کی جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس قسم کی ٹیکنالوجی کو صارفین کی رازداری اور پرائیویسی کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم تازہ ترین پیٹنٹ فائلنگ ظاہر کرتی ہے کہ کمپنی اس فیچر پر تحقیق اور ترقی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
میٹا کی جانب سے پیش کردہ اس ڈیزائن میں چشموں کے ذریعے اردگرد موجود افراد کے چہروں کو اسکین کرنے اور انہیں آن لائن یا ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کے ساتھ منسلک کرنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خصوصیات صارفین کے لیے روزمرہ کی زندگی میں سہولت تو پیدا کر سکتی ہیں، لیکن اس سے عام شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے، کیونکہ بغیر اجازت کسی کا چہرہ اسکین کرنا سنگین نوعیت کے پرائیویسی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میٹا اس ٹیکنالوجی کو کب تک باضابطہ طور پر تجارتی پیمانے پر مارکیٹ میں پیش کرے گا یا آیا اسے حتمی مصنوعات کا حصہ بنایا بھی جائے گا یا نہیں۔ تاہم پیٹنٹ فائلنگ سے یہ بات ضرور عیاں ہو گئی ہے کہ کمپنی عینک کی اس نئی نسل کو مزید طاقتور اور فیچر سے بھرپور بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دنیا بھر کے پرائیویسی کے حامی ادارے اس پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔