Technology
مراکش میں اسپنج پیومنٹ کا تجربہ: گرمی سے بچنے کا انوکھا حل
مراکش کے شہروں مراکش اور اگادیر میں روایتی کالے تارکول کے بجائے ہجرت کرنے والے اسپنج فٹ پاتھ کا تجربہ کیا گیا ہے۔ اس جدید اور غیر روایتی سڑک کے استعمال سے گرمی میں سولہ ڈگری فارن ہائٹ تک نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور شدید گرمی کی لہروں سے نمٹنے کے لیے مراکش نے ایک انتہائی دلچسپ اور کارآمد قدم اٹھایا ہے۔ ملک کے دو بڑے اور گرم شہروں یعنی مراکش اور اگادیر میں روایتی کالے تارکول کی سڑکوں کے بجائے ماحول دوست اور جدید اسپنج پیومنٹ یعنی جذب کرنے والے فٹ پاتھوں کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ یہ تجربہ شہروں کو انتہائی گرمی اور اچانک ہونے والی شدید بارشوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، جو اربن پلاننگ کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔
روایتی اسفالٹ یا تارکول سورج کی تپش کو اپنے اندر جذب کر کے اردگرد کے ماحول کو شدید گرم کر دیتا ہے، جسے اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ نئے اسپنج فٹ پاتھ پانی اور ہوا کو اپنے نیچے موجود تہوں میں جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ سائنسی مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس تجرباتی سطح کا درجہ حرارت روایتی سڑکوں کے مقابلے میں سولہ ڈگری فارن ہائٹ تک کم رہا ہے، جو کہ شہر کے باسیوں کے لیے ایک بہت بڑی راحت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پورورس یا پارمئیبل سڑکیں نہ صرف درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتی ہیں بلکہ بارش کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے روایتی مسئلے سے بھی نجات دلاتی ہیں۔ پانی تیزی سے زمین کے اندر جذب ہو جاتا ہے جس سے زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مراکش میں اس منصوبے کی کامیابی کے بعد دنیا بھر کے دیگر شہروں کے اربن پلانرز بھی اس ماڈل کو اپنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔