Technology
مصنوعی ذہانت کا معاشی بلبلہ اور اس کے خطرات
امریکہ میں مصنوعی ذہانت کا حالیہ معاشی عروج بڑی سرمایہ کاری اور قرضوں کے بل بوتے پر کھڑا ہے۔ ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر یہ فنڈنگ رکی تو اس کے معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ میں اس وقت مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جو غیر معمولی تیزی اور عروج دیکھا جا رہا ہے، اس کی بنیاد درحقیقت ایک بہت بڑے مالیاتی بلبلے پر کھڑی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تمام تر معاشی ترقی بڑے پیمانے پر ہونے والے اخراجات، بھاری قرضوں اور وال اسٹریٹ کی مالی اعانت کے سہارے چل رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ سرمائے کا بہاؤ سست یا مکمل طور پر بند ہو گا، تو امریکی اور عالمی معیشت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
حالیہ برسوں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سینٹرز اور ریسرچ پر اربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔ اس اندھا دھند سرمایہ کاری نے تکنیکی میدان میں ایک نیا انقلاب تو برپا کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی رسک بھی بڑھ گیا ہے۔ بہت سے اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کمپنیاں اپنی متوقع آمدنی حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور فنڈنگ کا سلسلہ رکا، تو اس کا نتیجہ مارکیٹ میں ایک بڑے کریش کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار بھی اب اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر فنڈنگ قرضوں اور قلیل مدتی سرمایہ کاری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاریخی طور پر جب بھی کسی نئی ٹیکنالوجی میں اس طرح کا بے پناہ مالیاتی جوش و خروش دیکھا گیا ہے، تو اس کے بعد ایک اصلاحی دور یا مندی ضرور آئی ہے۔ اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹتا ہے، تو نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے کو شدید دھچکا لگے گا بلکہ مجموعی معیشت بھی کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔
حکومتوں اور مالیاتی اداروں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار کریں۔ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن اسے معیشت کا واحد سہارا بنانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا یہ کمپنیاں پائیدار منافع کمانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر معیشت کو کسی بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔