LIVE
Loading Breaking News...

سابق اسرائیلی یرغمالی کا فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ

News Image
ایک سابق اسرائیلی یرغمالی روم براسلاوسکی نے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتھمار بین گوویر سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی پر لٹکانے کی اجازت دی جائے۔ اس شرمناک اور پرتشدد مطالبے نے انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ایک انتہائی چونکا دینے والے واقعے میں، سابق اسرائیلی یرغمالی روم براسلاوسکی نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتھمار بین گوویر سے باضابطہ مطالبہ کیا ہے کہ اسے فلسطینی قیدیوں کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کی اجازت دی جائے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بدترین سلوک پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔ روم براسلاوسکی، جو ماضی میں یرغمال بنائے گئے تھے، نے مبینہ طور پر انتہا پسند وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں قزاقوں اور مجرموں کی طرح فلسطینی قیدیوں پر سزائے موت کے نفاذ کا حق دیا جائے۔ اس قسم کے بیانات اور مطالبات نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی معاشرے اور بعض حلقوں میں انتہا پسندانہ سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے، جہاں قیدیوں کے بنیادی حقوق کو سرعام پامال کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری نے اس مطالبے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مطالبات کی حوصلہ افزائی کرنا دراصل خطے میں مزید خون خرابے کو ہوا دینے کے برابر ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا جانا چاہیے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی پس منظر سے ہو۔ اسرائیلی حکومت اور وزارتِ قومی سلامتی کی طرف سے ابھی تک اس متنازعہ مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ایتھمار بین گوویر کا ماضی کا ریکارڈ اور ان کے متنازعہ بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کے حامی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ اس انسانی بحران کی طرف مبذول کرا دی ہے جو اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کو درپیش ہے۔