LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں سینڈوچ کی سخت ضابطہ بندی پر سوال

News Image
نامور ماہرِ مستقبل میکس ٹیگمارک نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں عام سینڈوچ زیادہ سخت قوانین اور ضابطوں کے ماتحت کیوں ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے بے لگام پھیلاؤ اور حفاظتی اقدامات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن: معروف ماہرِ مستقبل اور محقق میکس ٹیگمارک نے مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ عالمی منظر نامے پر ایک ایسا طنزیہ اور فکر انگیز سوال اٹھایا ہے جس نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ایک عام سینڈوچ یا کھانے پینے کی دوسری اشیاء کو صارفین تک پہنچانے سے پہلے جن کڑے ضابطوں، حفظان صحت کے اصولوں اور حکومتی قوانین سے گزرنا پڑتا ہے، اتنی سختی دنیا کو بدلنے والی ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت پر عائد نہیں کی جا رہی۔ میکس ٹیگمارک کے مطابق یہ ایک حیرت انگیز تضاد ہے کہ ہم نے خوراک اور ادویات کے لیے تو سخت حفاظتی دیواریں کھڑی کی ہیں لیکن انسانیت کے لیے ممکنہ طور پر سب سے بڑا خطرہ بننے والی ٹیکنالوجی کو تقریباً کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ میکس ٹیگمارک کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جنریٹو اے آئی اور لارج لینگویج ماڈلز کی ترقی کی رفتار بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بغیر کسی مرکزی حکومتی نگرانی یا بین الاقوامی قوانین کے ایسے ماڈلز لانچ کر رہی ہیں جو معاشرے، معیشت اور جمہوریت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ خوراک کا معیار خراب ہونے سے چند افراد متاثر ہوتے ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت میں کسی بھی بڑے نقص یا غلط معلومات کے پھیلاؤ سے پوری انسانیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، اے آئی کے شعبے میں ضابطہ اخلاق کی تشکیل کا عمل تاحال سست اور متنازعہ شکار ہے۔ اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے روایتی صنعتوں اور اشیاء کی جانچ پڑتال کے لیے تو صدیوں پرانے موثر نظام رکھتے ہیں، لیکن ڈیجیٹل دور کی تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ میکس ٹیگمارک اور دیگر ماہرینِ اخلاقیات کا مطالبہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی بین الاقوامی سطح پر سخت حفاظتی معیارات اور قانونی فریم ورک بنائے جائیں تاکہ انسانیت کو کسی بھی ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا دنیا بھر کی حکومتیں اس تنبیہ کے بعد اے آئی کی سخت ضابطہ بندی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتی ہیں یا نہیں۔