Technology
سمارٹ گلاسز اور آپٹکس کے مسائل: جورجن ٹیکنالوجی کے چیئرمین کا بیان
جورجن ٹیکنالوجی کے چیئرمین وین لنگ لیانگ کا کہنا ہے کہ اے آئی اور اسپیشل کمپیوٹنگ کا امتزاج سمارٹ چشموں کو اگلا اسمارٹ فون قاتل بنا سکتا ہے۔ تاہم، انسانی کمپیوٹر تعامل میں اس انقلاب کی راہ میں آپٹکس کی ٹیکنالوجی سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
جورجن ٹیکنالوجی کے چیئرمین وین لنگ لیانگ نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور اسپیشل کمپیوٹنگ کے امتزاج سے بننے والے سمارٹ چشمے مستقبل میں روایتی اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی محض ہارڈ ویئر میں معمولی تبدیلی یا اپ گریڈ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی کمپیوٹر تعامل (HCI) کے شعبے میں ایک دور رس اور ہم گیر انقلاب کی شروعات ثابت ہوگی۔ جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس تبدیلی کو بہت قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسمارٹ چشمے روزمرہ کی زندگی میں معلومات تک رسائی کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیں گے۔ اسمارٹ فونز کی طرح یہ ڈیوائسز بھی لوگوں کی زندگی کا لازمی حصہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم، اس تمام تر ترقی اور روشن مستقبل کے باوجود اسمارٹ چشموں کی تیاری میں تاحال کئی تکنیکی اور سائنسی مشکلات حائل ہیں۔ چیئرمین وین لنگ لیانگ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سمارٹ چشموں کے ہارڈ ویئر میں 'آپٹکس' یا بصری ٹیکنالوجی اب بھی سب سے مشکل اور کٹھن رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بصری نظام کو اس قابل بنانا کہ وہ ہلکے پھلکے فریم میں فٹ ہو سکے اور ساتھ ہی بہترین اور واضح رزلٹ فراہم کرے، انجینئرز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے تحقیق میں مصروف ہیں تاکہ مارکیٹ میں ایسے چشمے لائے جا سکیں جو صارفین کی توقعات پر پورا اتریں۔ جب تک آپٹکس کے شعبے میں کوئی بڑی سائنسی پیش رفت نہیں ہوتی، اسمارٹ چشموں کا تجارتی پیمانے پر مکمل اور عام استعمال محدود رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، انڈسٹری کے ماہرین مستقبل کے حوالے سے انتہائی پرامید ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان تکنیکی مسائل پر قابو پا لیا جائے گا، جس کے بعد دنیا ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گی۔