LIVE
Loading Breaking News...

ڈیزائنر پروٹین تھراپی: اعصابی امراض کے علاج میں بڑی پیشرفت

News Image
امریکی یونیورسٹی کے محققین نے اعصابی امراض کے علاج کے لیے تیار کردہ نئے ڈیزائنر پروٹین کے انسانی تجربات میں غیر معمولی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ طبی پیشرفت مستقبل میں دماغی بیماریوں کے علاج کے روایتی طریقوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔
امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے برین ریسرچ پروگرام کے تحت منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس میں جب ڈیزائنر پروٹین تھراپیز کے پہلے انسانی تجربات کے نتائج پیش کیے گئے تو وہاں موجود ماہرینِ اعصابیات حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا اسکول آف میڈیسن کے معروف محقق برائن روتھ نے اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے طبی تاریخ کی ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیا ہے۔ یہ نئی تھراپی بنیادی طور پر ان پروٹینز پر مشتمل ہے جو خاص طور پر دماغی خلیوں کو ہدف بنانے کے لیے لیبارٹری میں ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈیزائنر پروٹینز دماغ کے اندر موجود ان مخصوص نیورونز یا ریسیپٹرز کو فعال یا غیر فعال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو اعصابی بیماریوں کے دوران تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ روایتی ادویات کے برعکس، یہ پروٹین تھراپی نہایت درستگی کے ساتھ کام کرتی ہے، جس سے انسانی جسم کے دیگر اعضاء پر ضمنی اثرات (Side Effects) کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار مستقبل میں پارکنسن، مرگی اور دیگر پیچیدہ اعصابی بیماریوں کے مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ تجرباتی مرحلے کے دوران جن مریضوں پر یہ پروٹین تھراپی آزمائی گئی، ان میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ ایک انتہائی پیچیدہ نظام ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت انتہائی خطرے کا کام ہوتی ہے، لیکن ان ڈیزائنر پروٹینز نے جس طرح نیورونز کے ساتھ تعامل کیا ہے، اس نے سائنسی دنیا کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی ابتدائی طبی آزمائشوں کا حصہ ہے، تاہم اس کی افادیت کے ابتدائی شواہد نے عالمی سطح پر طبی ماہرین کو متوجہ کر لیا ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس تھراپی کے وسیع تر انسانی تجربات کیے جائیں گے تاکہ اس کے طویل مدتی اثرات کا تعین کیا جا سکے۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو طبی سائنس میں ادویات کے بجائے پروٹین پر مبنی علاج کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو مہلک اعصابی عوارض کو قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ سائنسی برادری اب اس پیشرفت کو اعصابی امراض کے خاتمے کی سمت ایک بڑا قدم قرار دے رہی ہے، جس سے دنیا بھر کے لاکھوں مریضوں کے لیے زندگی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔