LIVE
Loading Breaking News...

جنریشن زی اور آن لائن جوا: نوجوان مالی بحران کے حل کے لیے خطرناک راستے کیوں چن رہے ہیں؟

News Image
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اپنے مالی اہداف حاصل کرنے اور ریٹائرمنٹ کی بچت کے لیے جوئے جیسے ہائی رسک کاموں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں نوجوانوں کا یہ رجحان ماہرین کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
ایک حالیہ عالمی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ 'جنریشن زی' (Zoomers) سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مالی اہداف کو حاصل کرنے اور مستقبل کے لیے بچت کرنے کی خاطر جوئے (Gambling) جیسے انتہائی خطرناک ذرائع کا سہارا لے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دیگر تمام عمر کے گروہوں کے مقابلے میں نوجوانوں کی جانب سے جوئے کی طرف رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 26 فیصد زومرز اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ روایتی بچت کے طریقے اب ناکافی ہیں اور وہ تیز رفتار دولت کے حصول کے لیے ہائی رسک پلیٹ فارمز پر پیسہ لگا رہے ہیں۔ اس تشویشناک رجحان کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی معاشی غیر یقینی، مہنگائی اور مستقبل کے بارے میں پایا جانے والا خوف ہے۔ نوجوان نسل کا ماننا ہے کہ روایتی ملازمتوں اور بینکنگ کے طریقوں سے ان کی ریٹائرمنٹ یا گھر خریدنے جیسے بڑے مالی خواب پورے نہیں ہو سکتے۔ اس مایوسی نے انہیں آن لائن بیٹنگ ایپس اور کرپٹو کیسینو کی طرف دھکیلا ہے، جہاں فوری منافع کا لالچ دے کر انہیں پھنسایا جاتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف ان کی موجودہ مالی حالت کو تباہ کر سکتا ہے بلکہ انہیں سنگین قرضوں اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل میں بھی مبتلا کر رہا ہے۔ سماجی ماہرین اس رجحان کو سوشل میڈیا کے اثرات سے بھی جوڑ رہے ہیں، جہاں 'جلد امیر بننے' کے فارمولوں کو بہت زیادہ فروغ دیا جاتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ جوئے کے ذریعے وہ اپنی زندگی کا معیار بدل سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ طریقہ کار ایک ایسا جال ہے جس میں پھنس کر نوجوان اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھتے ہیں۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر اس رجحان کو روکنے کے لیے مالی خواندگی اور آگاہی مہمات نہ چلائی گئیں، تو آنے والے برسوں میں ایک پوری نسل شدید معاشی بحران اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔ آخر میں، حکومتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غیر قانونی بیٹنگ پلیٹ فارمز کے خلاف سخت کارروائی کریں جو براہِ راست نوجوانوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسے محفوظ اور پائیدار سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں جو انہیں جوا کھیلنے کی ترغیب دینے کے بجائے، طویل مدتی مالی استحکام فراہم کر سکیں۔ بصورتِ دیگر، مستقبل کا معاشی ڈھانچہ ان نوجوانوں کی وجہ سے مزید کمزور پڑ سکتا ہے جو اس وقت شارٹ کٹ کے چکر میں اپنی جمع پونجی داؤ پر لگا رہے ہیں۔