World
امریکی ٹیرف: ڈرونز پر سو فیصد تک ٹیکس عائد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات پر قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر سو فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی دفاعی اور تکنیکی صنعت کو فروغ دینا اور بیرونی انحصار کو کم کرنا ہے۔
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے غیر ملکی ساختہ ڈرونز کے خلاف ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے درآمد شدہ بغیر پائلٹ کے ہوائی نظام اور بعض اہم ڈرون اجزاء پر سو فیصد تک کے نئے ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے جانے والے اس اعلان کا بنیادی مقصد ملکی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا اور حساس نوعیت کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بیرونی انحصار کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس اقدام سے ملکی صنعتوں کو تحفظ ملے گا اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا مؤثر تدارک کیا جا سکے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے عالمی ڈرون مارکیٹ بالخصوص چین اور دیگر ممالک سے آنے والی مصنوعات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اس قسم کے سخت تجارتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال تجارتی اور عسکری دونوں شعبوں میں تیزی سے بڑھا ہے، جس کے بعد سے واشنگٹن میں اس کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے آوازیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ دوسری جانب، بین الاقوامی تجارتی حلقوں اور غیر ملکی مینوفیکچررز نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے سپلائی چین متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی سطح پر تجارتی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جبکہ امریکہ میں مقیم مقامی ڈرون ساز ادارے اس فیصلے کو اپنے لیے ایک سنہری موقع قرار دے رہے ہیں۔