Education
اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا کردار اور مستقبل کے تقاضے
ہارورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ابھرتے ہوئے دور میں روایتی تعلیمی نصاب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ تعلیمی اداروں کو طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تدریسی طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرین تعلیم اور محققین نے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے اثرات نے اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام کو ایک اہم موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اب یہ سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ طلبہ کو کیا سکھایا جا رہا ہے اور آیا یہ مہارتیں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ روایتی تعلیمی ادارے، جو برسوں سے ایک خاص نصاب پر انحصار کرتے آئے ہیں، اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی موجودگی میں غیر متعلقہ محسوس ہونے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے پالیسیاں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ صرف پالیسیاں بنانا مسائل کا حل نہیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تدریسی طریقہ کار کو بنیاد سے تبدیل کیا جائے۔ اس دور میں معلومات تک رسائی آسان ہو چکی ہے، اس لیے یونیورسٹیوں کو 'معلومات کی فراہمی' کے بجائے 'تنقیدی سوچ'، 'مسائل کے حل کی صلاحیت' اور 'ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی' پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ طلبا کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ کس طرح مصنوعی ذہانت کو ایک معاون کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں نہ کہ اسے اپنی سیکھنے کی صلاحیتوں کا متبادل بنائیں۔
مزید برآں، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے تعلیمی ادارے ابھی بھی پرانے امتحانی نظام اور گھسے پٹے نصاب پر عمل پیرا ہیں۔ ہارورڈ کے محققین کا ماننا ہے کہ اگر اعلیٰ تعلیم کے شعبے نے وقت کے ساتھ خود کو نہ بدلا تو وہ دور حاضر کے تقاضوں سے مطابقت کھو دیں گے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ صنعت کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر ایسے پروگرام ترتیب دیں جو مصنوعی ذہانت کے دور میں طلبہ کو مسابقتی دنیا کے لیے تیار کر سکیں۔ یہ ایک کل وقتی عمل ہے جس کے لیے تعلیمی ڈھانچے میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
آخر میں، مصنوعی ذہانت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسانی اساتذہ اور روایتی یونیورسٹیوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس، اساتذہ کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ انہیں اب طلبہ کی رہنمائی ایک ایسے ماحول میں کرنی ہے جہاں معلومات کا سیلاب موجود ہے۔ ایک متوازن تعلیمی ماحول وہ ہوگا جہاں ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا ملاپ ہو، تاکہ آنے والی نسلیں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرتی اور معاشی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔