Technology
وینڈوز این ٹی کے نام کی حقیقت اور انٹیل کا ناکام پراجیکٹ
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مائیکروسافٹ کے مشہور آپریٹنگ سسٹم ونڈوز این ٹی کا نام انٹیل کے ایک پرانے اور ناکام ہو جانے والے پروسیسر سے لیا گیا تھا۔ یہ انکشاف ونڈوز این ٹی تھری پوائنٹ ون کی ابتدائی تاریخ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تاریخ میں کئی ایسے راز دفن ہیں جو وقت کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ڈیو فارکوہار کی جانب سے شائع ہونے والے ایک دلچسپ مضمون میں ونڈوز این ٹی تھری پوائنٹ ون کے مارکیٹ میں ابتدائی دنوں کے حوالے سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون میں ایک ایسا تاریخی نکتہ بیان کیا گیا ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ نے اپنے اس نئے اور ابتدائی کوڈ کا نام انٹیل کے ایک ایسے پرانے اور ناکام متبادل پروسیسر کے نام پر رکھا تھا جو ایکس ای ٹی سکسٹی (x86) کی جگہ لینے میں ناکام رہا تھا۔ مائیکروسافٹ کا یہ بنیادی کوڈ آگے چل کر ونڈوز این ٹی کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔ انٹیل کا وہ ناکام پروسیسر اپنے وقت میں مارکیٹ میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا تھا، لیکن اس کا نام کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک الگ ہی تاریخ چھوڑ گیا۔ مائیکروسافٹ کے اس وقت کے سسٹمز نے اسی بنیاد پر اپنی ترقی کا سفر شروع کیا تھا جو بعد میں مائیکروسافٹ کے کارپوریٹ آپریٹنگ سسٹمز کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا۔ ونڈوز این ٹی کی یہ ابتدائی کہانی آج بھی ٹیکنالوجی کے شائقین کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہے، کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ کس طرح پرانی اور ناکام ٹیکنالوجیز بھی بعض اوقات نئی بڑی ایجادات کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ اس انکشاف نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ماضی کے کئی اور دریچے بھی وا کر دیے ہیں جہاں سے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے باہمی تعلق کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔