LIVE
Loading Breaking News...

جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج

News Image
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاجی سلسلے کے تحت ملک کے تمام بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے جائیں گے۔
جماعت اسلامی پاکستان نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاجی مہم کے تحت ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز کے سامنے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے، جس کا مقصد حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کا اظہار کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ اور ان پر عائد لیوی نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس احتجاجی سلسلے میں کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں جماعت اسلامی کے کارکن بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ جماعت اسلامی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ میں آکر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا ہے جس سے عام آدمی کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے۔ دھرنوں اور مظاہروں کے دوران جماعت اسلامی کے قائدین حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر واپس لی جائے اور بجلی اور گیس کے ٹیرف میں کیا گیا اضافہ بھی ختم کیا جائے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہے۔ آج کے دھرنوں میں کارکنوں کے علاوہ تاجر برادری، مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی شرکت متوقع ہے۔ سیکیورٹی کے پیش نظر تمام گورنر ہاؤسز کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک حکومت عوام دشمن فیصلے واپس نہیں لیتی، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک شدید معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، جماعت اسلامی کا یہ اقدام حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سراپا احتجاج ہے، اور آج کے دھرنوں سے یہ واضح ہوگا کہ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کو کس حد تک سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس احتجاج کے حوالے سے کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں اس تحریک کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔