LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور حکومتی مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال

News Image
پاکستان بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی نو روزہ ہڑتال کے باعث تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جس پر قابو پانے کے لیے حکومت اور ٹرانسپورٹ یونینز کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد اب معاملات بہتری کی جانب گامزن دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے شروع کی گئی ملک گیر ہڑتال آج نویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث ملکی معیشت اور تجارتی مراکز میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس ہڑتال نے بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں کو تقریباً معطل کر دیا ہے جس کی وجہ سے درآمدی اور برآمدی سامان کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہڑتال کے مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں ضروری اشیائے خوردونوش کی قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عام عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ہڑتال ختم کرانے کے لیے ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ٹرانسپورٹرز کے تحفظات کو دور کرنے اور ان کے جائز مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا یہ عمل بحران کے حل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس بات چیت کا مقصد نہ صرف ٹرانسپورٹرز کو کام پر واپس لانا ہے بلکہ ملک بھر میں سپلائی چین کے نظام کو بھی بحال کرنا ہے۔ اہم پیش رفت کے طور پر حکومتی یقین دہانیوں کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال کو 40 دن کے لیے معطل کرنے کا عندیہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے سے کاروباری طبقے میں امید کی لہر دوڑی ہے کہ بندرگاہوں پر پھنسا ہوا مال جلد ہی منڈیوں تک پہنچ سکے گا جس سے اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔ فی الحال صورتحال کی بہتری کے لیے تمام تر نظریں حکومت اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے تحریری معاہدے پر مرکوز ہیں۔