Technology
گوگل پکسل 11 پرو اے آئی فیچرز کے چھپے ہوئے نقصانات
گوگل کے نئے پکسل 11 پرو میں متعارف کرائے گئے مصنوعی ذہانت کے مفت فیچرز صارفین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان سہولیات کے حصول کے لیے صارفین کو تین بڑی قیمتیں ادا کرنی پڑ سکتی ہیں۔
گوگل نے حال ہی میں اپنی نئی پکسل 11 سیریز متعارف کرائی ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پکسل 11 اب تک کا سب سے زیادہ پرسنل فون ہے جس میں جیمنی (Gemini) اے آئی کو ایپل جیسے حریفوں کے مقابلے میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ ایسے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں جن سے صارفین کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوگل ان اے آئی فیچرز کو 'مفت' پیش کر رہا ہے، لیکن اس کے پیچھے تین ایسی قیمتیں ہیں جو صارفین کو ادا کرنی پڑ سکتی ہیں۔
پہلا بڑا مسئلہ ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی کا ہے۔ جب صارفین پکسل 11 کے ایڈوانسڈ اے آئی فیچرز استعمال کرتے ہیں، تو ڈیوائس کو مسلسل کلاؤڈ پروسیسنگ اور ڈیٹا اینالائسز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی نجی معلومات، تصاویر اور وائس ڈیٹا کا ایک حصہ گوگل کے سرورز پر پروسیس کیا جاتا ہے۔ اگرچہ گوگل ڈیٹا سیکیورٹی کے سخت دعوے کرتا ہے، لیکن اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے ڈیٹا کا استعمال صارفین کے لیے ایک تشویشناک پہلو بنا ہوا ہے۔
دوسرا اہم پہلو ہارڈویئر کی کارکردگی اور بیٹری لائف سے متعلق ہے۔ پکسل 11 پرو کے پیچیدہ اے آئی ماڈلز فون کے پروسیسر پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بیٹری تیزی سے ختم ہوتی ہے بلکہ طویل مدتی استعمال میں فون کے ہارڈویئر کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پکسل 11 کے دیگر فیچرز، جیسے کہ ٹمپریچر سینسر، کو ہائی لائٹ اے آئی فیچر کے مقابلے میں زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ اے آئی فیچرز کے لیے درکار وسائل ڈیوائس کی زندگی کم کر سکتے ہیں۔
تیسرا اور آخری نکتہ سبسکرپشن ماڈل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فی الحال بہت سے فیچرز مفت دستیاب ہیں، لیکن یہ ایک 'ٹرائل' کی طرح ہے جس کے بعد گوگل مستقبل میں ان خصوصیات کو پریمیم سبسکرپشن کے ساتھ منسلک کر سکتا ہے۔ صارفین کو اس بات کا خدشہ ہے کہ جس طرح گوگل نے فوٹوز اور اسٹوریج کے معاملات میں پالیسیاں تبدیل کی ہیں، مستقبل میں اے آئی کی مکمل رسائی کے لیے صارفین کو بھاری ماہانہ فیس ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ لہذا، پکسل 11 خریدنے سے قبل صارفین کو ان تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔