World
غزہ میں قیامِ امن کے لیے جیرڈ کوشنر متحرک، حماس کے ساتھ مذاکرات
ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کوشنر نے غزہ میں مستقبل کے سیاسی ڈھانچے اور قیامِ امن کے لیے حماس کے رہنماؤں سے قاہرہ میں اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے پیش کردہ نئے امن منصوبے پر بات چیت کرنا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کوشنر نے غزہ میں جاری طویل کشیدگی کو ختم کرنے اور ایک نئے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے قاہرہ میں حماس کے اہم رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، اس خفیہ ملاقات کا مقصد غزہ کی پٹی میں مستقبل کے انتظامی امور اور سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا تاکہ خطے میں ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس پیش رفت کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اپنی نئی پالیسیوں کے اطلاق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران اہم ترین ایجنڈا حماس کے عسکری کردار کو محدود کرنا اور غزہ کی مکمل تخفیفِ اسلحہ (Disarmament) کی شرائط طے کرنا تھا۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اگر حماس مستقبل میں غزہ کے انتظام و انصرام میں اپنا کوئی بھی کردار برقرار رکھنا چاہتی ہے، تو اسے اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ یہ پہلو امن منصوبے کا ایک اہم ستون ہے، جس کے ذریعے امریکہ خطے میں کسی بھی مستقبل کے تصادم کے امکان کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوشنر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو اور معاشی استحکام کا دارومدار حماس کے عسکری ڈھانچے کے خاتمے پر ہے۔
دوسری جانب حماس کی قیادت نے ان تجاویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جیرڈ کوشنر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کے حالات انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔ اگرچہ حماس نے ماضی میں ایسی کسی بھی پیشکش کو مسترد کیا تھا، تاہم موجودہ سفارتی دباؤ اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر یہ ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں کیا حتمی معاہدہ طے پا سکے گا، لیکن سفارتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں قاہرہ میں مزید ملاقاتوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس میں علاقائی شراکت دار بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے کیونکہ غزہ میں امن کا قیام صرف فلسطینیوں بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔