LIVE
Loading Breaking News...

صدر اردوان کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، تیل کی سپلائی میں تعطل پر تشویش

News Image
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے تعطل کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس اہم تجارتی راستے کی بندش سے عالمی معیشت اور توانائی کے بحران میں مزید شدت آسکتی ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے عالمی سطح پر تیل کی رسد میں شدید خلل کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحال کرنے اور اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکیہ کے صدر کی جانب سے یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی ترسیل کے اس انتہائی اہم راستے پر کوائف اور بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کے لیے ایک مرکزی رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور دنیا بھر کے تیل کے بڑے ذخائر اس راستے سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بندش کے براہ راست اثرات عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ ترکیہ نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکیں۔ صدر اردوان کا مؤقف ہے کہ توانائی کی ترسیل کے راستوں کو تنازعات سے محفوظ رکھنا عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ بین الاقوامی توانائی کے اداروں اور تجارتی تجزیہ کاروں نے بھی اس بحران کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ تیل کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی مہنگائی میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ حکومت ترکیہ اس بات پر مسلسل زور دے رہی ہے کہ سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں کو کھلا رکھا جا سکے اور دنیا بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔