LIVE
Loading Breaking News...

ملازمہ کی تصویر اے آئی پوسٹرز میں استعمال: دفتر میں اخلاقی اور قانونی بحران

News Image
ایک نجی کمپنی میں باس کی جانب سے اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ملازمہ کی فیس بک تصویر سے ہفتہ وار پوسٹرز بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ملازمہ اس صورتحال پر پریشان ہیں اور یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی ہیں کہ آیا انہیں انسانی وسائل (HR) کے محکمے میں اس کی شکایت کرنی چاہیے یا نہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی (AI) کے جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی کے فوائد گنوائے جا رہے ہیں، وہیں اس کا غلط استعمال ایک نئے اخلاقی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ حال ہی میں ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک خاتون ملازمہ نے ایک انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال کا ذکر کیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے باس نے ان کی اجازت کے بغیر ان کی فیس بک پروفائل سے تصویر چرائی اور اسے اے آئی ٹولز کے ذریعے ہفتہ وار دفتری پوسٹرز میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ عمل نہ صرف پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ملازم کے وقار کو بھی مجروح کرتا ہے۔ خاتون ملازمہ کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال پر شدید ذہنی دباؤ اور تذبذب کا شکار ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ آیا وہ اس معاملے کو دفتر کے انسانی وسائل یعنی ایچ آر (HR) ڈیپارٹمنٹ تک لے کر جائیں یا نہیں۔ ان کا خوف یہ ہے کہ اگر وہ شکایت کرتی ہیں تو شاید ان کے کریئر پر منفی اثرات مرتب ہوں یا باس کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہو جائیں۔ دوسری جانب، یہ معاملہ ڈیجیٹل اخلاقیات کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا کسی باس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ماتحت کی ذاتی زندگی کی تصاویر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات اگرچہ تکنیکی طور پر آسان ہو چکے ہیں لیکن قانونی اور اخلاقی طور پر انتہائی غلط ہیں۔ زیادہ تر دفاتر میں ملازمین کے ڈیٹا اور ان کی ذاتی شناخت کے حوالے سے سخت پالیسیاں موجود ہوتی ہیں، جن کے تحت کسی کی مرضی کے بغیر ان کی تصویر یا ڈیٹا کو تجارتی یا تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا قابلِ سزا جرم ہو سکتا ہے۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا کارپوریٹ کلچر میں اے آئی کے استعمال پر کوئی ضابطہ اخلاق ہونا ضروری ہے، تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ آخر میں، یہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران باہمی اعتماد اور شفافیت کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ کسی بھی ملازم کی تصویر کا بغیر اجازت استعمال کرنا پیشہ ورانہ رویے کے منافی ہے۔ اگر یہ معاملہ ایچ آر تک پہنچتا ہے تو یہ ایک اہم کیس بن سکتا ہے جو مستقبل میں کمپنیوں کو اے آئی ٹولز کے غلط استعمال سے روکنے کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔ فی الحال متاثرہ خاتون کو قانونی ماہرین سے مشورہ کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے وقار اور پرائیویسی کا دفاع کر سکیں۔