LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل سروس پر مقدمہ: وال اسٹریٹ کے لیے پیشگی رسائی کا تنازع

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل ویب سائٹ پر ایک نئی سروس کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ یہ سروس وال اسٹریٹ کے تاجروں کو ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق پوسٹس تک پیشگی رسائی فراہم کر رہی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' کو ایک قانونی تنازعہ کا سامنا ہے جس نے امریکی سیاست اور وال اسٹریٹ کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ حال ہی میں ایک وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹروتھ سوشل کی جانب سے پیش کردہ ایک نئی سبسکرپشن سروس وال اسٹریٹ کے تاجروں کو ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف، جنگی امور اور دیگر اہم مارکیٹ اثر انداز ہونے والی پالیسیوں پر پوسٹس تک پیشگی رسائی فراہم کر رہی ہے۔ اس سروس کے لیے ایک بڑی رقم وصول کی جا رہی ہے، جس پر قانونی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس مقدمے میں بنیادی نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ کیا ایک صدارتی امیدوار یا سابق صدر کو اپنی پالیسیوں سے متعلق معلومات کو نجی طور پر کچھ مخصوص سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل مارکیٹ میں غیر منصفانہ مسابقت پیدا کر سکتا ہے اور اطلاعات تک رسائی کے حوالے سے سنگین اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جب تک یہ معلومات عام عوام تک پہنچتی ہیں، وال اسٹریٹ کے وہ تاجر جنہوں نے یہ مہنگی سروس خریدی ہوتی ہے، وہ پہلے ہی مارکیٹ میں اپنے فائدے کے لیے فیصلے کر چکے ہوتے ہیں، جس سے مارکیٹ کا توازن بگڑنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، اخلاقیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام سیاسی اور کاروباری مفادات کے درمیان سرحد کو دھندلا رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی رہنما عوامی پالیسیوں کے ذریعے نجی منافع کمانے کا راستہ نکالیں گے، تو اس سے عوامی اعتماد بری طرح مجروح ہوگا۔ قانون دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ صورتحال 'ان سائیڈر ٹریڈنگ' کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے کیونکہ ایک مخصوص گروپ کو حکومتی فیصلوں یا ممکنہ پالیسیوں پر پہلے سے آگاہی دینا دیگر سرمایہ کاروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس مقدمے پر کوئی حتمی دفاعی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ٹروتھ سوشل کی انتظامیہ اسے ایک عام کاروباری ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاملہ اب عدالتوں میں زیر سماعت رہے گا اور آنے والے دنوں میں یہ طے پائے گا کہ آیا سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی سیاسی پوسٹس کو 'مصنوعات' کے طور پر بیچنا قانونی تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ سیاسی مبصرین اسے ٹرمپ کی کاروباری اور سیاسی حکمت عملی کے ایک نئے امتحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کے نتائج مستقبل میں امریکی انتخابات اور مارکیٹ ریگولیشنز پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔