LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کا امکان

News Image
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے مطالبے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان سمیت متعدد جماعتیں ملک میں انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کے قیام پر قومی سطح پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔
پاکستان میں طویل عرصے سے زیر بحث نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاسی منظر نامے پر مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ملک میں انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوام تک سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ قومی سطح پر بات چیت شروع کرنے پر زور دیا ہے تاکہ اس حساس مسئلے کا متفقہ حل نکالا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں آبادی کے تناسب سے انتظامی اکائیاں بہت بڑی ہیں، جنہیں چھوٹے یونٹس میں تقسیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت صوبائی سطح پر اختیارات کی تقسیم کا عمل سست روی کا شکار ہے، جس سے نچلی سطح پر ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے مصطفیٰ کمال سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی ڈھانچوں کے قیام کے لیے آئینی ترامیم پر کام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ نئے یونٹس صرف انتظامی بنیادوں پر ہوں گے یا پھر نئے صوبوں کی صورت میں مکمل سیاسی خود مختاری کے حامل ہوں گے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر حتمی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس تجویز کو انتہائی سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ ملک میں 123 صوبوں کے قیام یا اس سے ملتی جلتی انتظامی اصلاحات کے حوالے سے بھی مباحثے جاری ہیں، جن کا مقصد دور دراز کے علاقوں میں گورننس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اس عمل میں درپیش آئینی اور سیاسی چیلنجز کے پیش نظر حکومتی سطح پر ایک وسیع تر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے۔ عوام اور سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ملک میں طرزِ حکمرانی کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، بشرطیکہ اسے ذاتی مفادات کے بجائے ملکی مفاد میں مکمل کیا جائے۔