LIVE
Loading Breaking News...

جیرڈ کشنر کی حماس کے رہنماؤں سے ملاقات، غزہ امن منصوبے کی تفصیلات

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر نے غزہ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک نئے امن منصوبے پر بات چیت کی ہے۔ اس سلسلے میں کشنر نے حماس کے نمائندوں اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حماس کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے ایک نئے امن منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق کشنر اس خطے میں مختلف فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جا سکے۔ اس دورے کے دوران کشنر نہ صرف حماس کے نمائندوں سے مل رہے ہیں بلکہ وہ اسرائیل اور مصر کے حکام کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ امن منصوبے کے حوالے سے یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب غزہ کی پٹی پر مسلسل اسرائیلی حملے جاری ہیں اور خطے میں انسانی صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ جیرڈ کشنر کا یہ دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے سابقہ اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں موجود پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشنر کی حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ تاہم، اب تک اس امن منصوبے کی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عسکری کارروائیاں بھی بدستور جاری ہیں، جس سے امن کی بحالی کی راہ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مستقبل قریب میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کشنر کی یہ کاوشیں بارآور ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔ بین الاقوامی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ خطے کا امن عالمی معیشت اور سیاسی استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ کشنر کا دورہ مصر اور اسرائیل کا تسلسل بتاتا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے علاقائی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔