LIVE
Loading Breaking News...

شہزادہ ہیری کا برطانیہ واپسی کا منصوبہ، شاہی خاندان سے تعلقات میں بہتری کا امکان

News Image
برطانوی شاہی خاندان سے دور رہنے والے شہزادہ ہیری نے مبینہ طور پر آئندہ چند ماہ میں برطانیہ کے بار بار دورے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے پیچھے ان کے شاہی حلقوں اور خاندان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کے رکن شہزادہ ہیری نے آئندہ چند ماہ کے دوران اپنے آبائی وطن برطانیہ کے کثرت سے دورے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوک آف سسیکس اب اپنے خاندان اور پرانے دوستوں کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کے لیے زیادہ وقت برطانیہ میں گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں سے وہ اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اس فیصلے کے پیچھے شاہی حلقوں کی جانب سے دی جانے والی حوصلہ افزائی کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق شاہ چارلس کے ساتھ ان کے تعلقات میں برف پگھلنے کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جس کے بعد شہزادہ ہیری نے برطانیہ آنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگرچہ شہزادہ ہیری کا برطانیہ میں قیام اب ایک عام بات نہیں رہی، لیکن ان کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر اپنی جڑوں سے جڑنے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم، یہ دورے برطانوی میڈیا اور شاہی تجزیہ کاروں کے لیے بھی ایک بڑی خبر بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے قریبی دوست ان کے ازدواجی تعلقات اور برطانیہ میں مسلسل مداخلت کے حوالے سے کچھ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ میڈیا میں یہ بحث بھی گرم ہے کہ آیا پرنس ولیم، جو کہ ہیری کے بڑے بھائی ہیں، اس صورتحال پر کیا ردعمل دیں گے۔ شاہی خاندان کے اندرونی ذرائع کے مطابق دونوں بھائیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرد مہری ابھی بھی برقرار ہے، جس کی وجہ سے ہیری کی برطانیہ واپسی کا عمل محتاط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں شہزادہ ہیری کے دوروں کا مقصد نہ صرف ذاتی نوعیت کا ہوگا بلکہ وہ اپنے فلاحی کاموں اور برطانیہ میں موجود اپنی ساکھ کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ عوام اور مبصرین اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہ دورے واقعی شاہی خاندان میں کسی بڑی مفاہمت کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے یا پھر یہ صرف ان کے نجی معاملات تک محدود رہیں گے۔ وقت ہی بتائے گا کہ برطانوی عوام اور شاہی محل ہیری کے اس ارادے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔