LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بحریہ: جنگی جہازوں پر تعینات اہلکاروں کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ

News Image
امریکی نیوی کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ طویل عرصے تک سمندر میں تعیناتی بحری فوجیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جنگی جہاز یو ایس ایس لنکن پر موجود اہلکاروں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
امریکی بحریہ کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے حال ہی میں جنگی جہاز 'یو ایس ایس لنکن' کے دورے کے بعد ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے بحری فوجیوں کی ذہنی صحت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ایڈمرل کوپر نے تسلیم کیا کہ طویل عرصے تک سمندر میں تعینات رہنا اور گھر سے دور رہ کر فرائض انجام دینا کسی بھی بحری فوجی کے لیے ایک 'منفرد اور کٹھن' تجربہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری ماحول کی تنہائی اور سخت ڈیوٹی کے اوقات انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جس سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔ دورے کے دوران ایڈمرل کوپر نے جہاز کے عملے سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے زور دیا کہ بحریہ کا محکمہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ہر اہلکار کو درکار ذہنی مدد اور سہولیات میسر ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جدید جنگی حالات میں جہاں ٹیکنالوجی اور سازوسامان کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، وہاں انسانی وسائل یعنی فوجیوں کی ذہنی تندرستی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صحت مند ذہن ہی کسی بھی مشن کو کامیابی سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی نیوی کی جانب سے یہ اقدام اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بحری جہازوں پر تعینات اہلکاروں میں تناؤ اور ذہنی دباؤ کے مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایڈمرل کوپر کی جانب سے اس مسئلے کو 'ترجیحی حیثیت' دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب امریکی عسکری قیادت بھی فوجیوں کی نفسیاتی بہتری کے لیے نئے اور مؤثر لائحہ عمل مرتب کر رہی ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی مزید اصلاحات کی توقع ہے جس سے سمندری حدود میں ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کا حوصلہ بلند رہے۔ آخر میں، ایڈمرل نے عملے کے عزم اور ہمت کی تعریف کی اور کہا کہ یو ایس ایس لنکن کے جوانوں نے جس طرح مشکل حالات کا مقابلہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتظامیہ کی جانب سے ذہنی صحت کے ماہرین کی دستیابی اور کونسلنگ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ اہلکار بغیر کسی نفسیاتی دباؤ کے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں، کیونکہ ایک مضبوط اور مستعد بحریہ ہی قوم کا سرمایہ ہے۔