World
امریکہ ایران معاہدہ: میعاد ختم ہونے پر اہم پیشرفت
امریکہ اور ایران کے مابین جون میں طے پانے والا معاہدہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہونے کے قریب ہے۔ فریقین نے معاہدے کے فوراً بعد ہی ایک دوسرے پر شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر دیے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ جون میں طے پانے والا ایک اہم معاہدہ اب اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا تھا، تاہم ابتدائی دنوں سے ہی یہ معاہدہ شدید شکوک و شبہات کی زد میں رہا۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان اس معاہدے کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب بنا ہے۔
معاہدے پر دستخط ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد، دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر معاہدے کی روح کے منافی کام کرنے اور شرائط کی کھلی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کر دیا تھا۔ واشنگٹن نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بجائے انہیں مزید بڑھا رہا ہے، جبکہ تہران نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ خطے میں اپنی جارحانہ پالیسیوں اور پابندیوں کے ذریعے معاہدے کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ ان باہمی الزامات نے سفارتی سطح پر پیدا ہونے والی معمولی بہتری کی امیدوں کو بھی دم توڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اب جبکہ معاہدے کی میعاد ختم ہونے کا وقت قریب ہے، خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایک وقتی انتظام تھا جس میں طویل مدتی استحکام کی کوئی ضمانت شامل نہیں تھی۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج اب پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی نئی سفارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے تاحال کسی نئی پیش رفت یا مذاکرات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔ دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی قسم کے نئے سمجھوتے کے لیے فی الحال تیار نظر نہیں آتے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی برادری کی نظریں اس معاملے پر مرکوز ہوں گی کہ آیا دونوں فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی نیا راستہ تلاش کر پائیں گے یا پھر تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔