World
عراق میں کرپشن کے خلاف بڑا آپریشن، درجنوں سرکاری افسران گرفتار
عراق کے کمیشن برائے سالمیت نے بغداد میں کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں سرکاری عہدیداروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران کروڑوں روپے کی نقدی اور قیمتی زیورات بھی برآمد کیے گئے ہیں جو بدعنوانی کے مقدمات سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں کمیشن برائے سالمیت کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں سرکاری عہدیداروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایک طویل عرصے سے جاری تحقیقات کا نتیجہ ہیں جن میں سرکاری اداروں کے اندر موجود بدعنوانی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس آپریشن کو عراقی حکومت کی جانب سے ملک میں شفافیت لانے اور عوامی وسائل کی لوٹ مار کرنے والے عناصر کے احتساب کے عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران کمیشن برائے سالمیت کی ٹیموں نے لاکھوں ڈالر مالیت کی نقدی اور قیمتی زیورات برآمد کیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دولت براہ راست ان بدعنوانی کے کیسز سے منسلک ہے جن کی بنیاد پر یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ پکڑی گئی رقم سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا کر غیر قانونی ذرائع سے اکٹھی کی گئی تھی۔ کمیشن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ برآمد شدہ دولت کا ریکارڈ چیک کیا جائے گا اور اس میں ملوث مزید افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بغداد کے مختلف سرکاری دفاتر میں ہونے والی یہ کارروائی عراقی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔ مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپشن عراق کے اہم مسائل میں سے ایک ہے جس نے ملکی ترقی کی رفتار کو سست کر رکھا ہے۔ اس بڑے کریک ڈاؤن سے عام شہریوں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب سرکاری اداروں میں شفافیت کا دور آئے گا۔ کمیشن برائے سالمیت نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور کسی بھی بااثر شخصیت کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
حکومت نے اس کارروائی کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد بدعنوانی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ عراقی عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ فی الحال حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے جو عراقی سیاست اور بیوروکریسی میں ہلچل مچا سکتے ہیں۔