LIVE
Loading Breaking News...

ایکواڈور میں ماہی گیروں کا بحران: منشیات فروشوں اور جنگی حالات کا شکار

News Image
ایکواڈور کے ساحلی دیہات کے ماہی گیر منشیات کے کارٹیلز کی دھمکیوں اور خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کے درمیان محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ روزگار کے ذرائع ختم ہونے سے مقامی آبادی کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
ایکواڈور کے بحر الکاہل کے ساحلی دیہات سان میٹیو اور جارامیجو میں بسنے والے مقامی ماہی گیر اس وقت ایک ایسے خوفناک دواہے پر کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی چھوٹی کشتیوں پر سمندر کا رخ کرنے والے ان افراد کو اب مچھلیوں کے بجائے اپنی جانوں کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ایک جانب منشیات کے بین الاقوامی کارٹیلز کا نیٹ ورک ہے جو ساحلی علاقوں کو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے، تو دوسری جانب ان ہی علاقوں میں امریکی فضائی حملوں اور انسدادِ منشیات کارروائیوں کا دباؤ ہے جس نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ وہ کراس فائر میں پھنس چکے ہیں جہاں سے فرار ہونا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ ماہی گیری کا پیشہ، جو کبھی ان دیہاتوں کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، اب ایک خطرناک کام بن چکا ہے۔ منشیات فروش گروہ ان کشتیوں کو زبردستی اپنے سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور اگر کوئی ماہی گیر مزاحمت کرے تو اسے موت کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ دوسری طرف، جب حکام یا امریکی فورسز ان علاقوں میں مشکوک سرگرمیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کرتی ہیں تو عام ماہی گیروں کو غلط فہمی کی بنا پر نشانہ بننے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس صورتحال نے پورے ساحلی پٹی پر ایک عجیب قسم کا سناٹا طاری کر دیا ہے، جہاں رات کے اندھیرے میں سمندر پر جانے سے ہر کوئی گریز کرتا ہے۔ مقامی کمیونٹیز کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی تحفظ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کے بڑے نیٹ ورکس کے سامنے کمزور نظر آتے ہیں۔ مسلسل دباؤ کے باعث بہت سے خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ آبادی شدید ذہنی دباؤ اور غربت کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہی گیروں کی کشتیاں اب روزگار کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے لیے مصیبت کا سبب بن رہی ہیں کیونکہ ہر گزرتا دن ان کے لیے نئے حفاظتی مسائل لے کر آتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور ایکواڈور کی حکومت کے لیے یہ صورتحال ایک چیلنج ہے کہ وہ کس طرح منشیات کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیوں کو عام شہریوں بالخصوص ماہی گیروں کے تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ساحلی دیہات مکمل طور پر جرائم پیشہ گروہوں کے کنٹرول میں چلے جائیں گے، جس کے اثرات نہ صرف مقامی معیشت پر بلکہ پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ ماہی گیروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی روایتی معاش کا کام بنا کسی خوف کے انجام دے سکیں۔