LIVE
Loading Breaking News...

ایپل اور چین: ٹرمپ انتظامیہ کا ٹیکنالوجی سپلائی چین پر اثر

News Image
سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایپل پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ چینی فرموں سے میموری چپس کی خریداری بند کرے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایپل کو اب مہنگے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑیں گے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سابقہ امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ایپل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والی میموری چپس چینی کمپنیوں سے حاصل کرنا بند کرے۔ یہ فیصلہ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں جاری امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور تکنیکی کشیدگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام قومی سلامتی اور تکنیکی خود مختاری کے حوالے سے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد امریکی کمپنیوں کے انحصار کو چینی ٹیکنالوجی پر کم کرنا ہے۔ ایپل کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ کمپنی کی بڑی تعداد میں پروڈکشن چین میں موجود ہے اور چینی سپلائرز کے ساتھ ان کا ایک طویل کاروباری تعلق رہا ہے۔ اب ایپل کو مجبوراً مہنگے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے تاکہ اپنی سپلائی چین کو برقرار رکھا جا سکے، تاہم ان مہنگے متبادل کا براہ راست اثر صارفین کے لیے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں نہ صرف عالمی سطح پر چپس کی قلت کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ بین الاقوامی تجارتی تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں۔ اس فیصلے سے عالمی سپلائی چین میں ایک نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس سے نہ صرف ایپل بلکہ پوری دنیا کی ٹیکنالوجی صنعت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے اور چین کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی طاقت کو محدود کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ ایپل جیسی عالمی سطح پر کام کرنے والی کمپنی کو اب ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا، جس میں انہیں امریکی حکومتی پالیسیوں کی پاسداری بھی کرنی ہے اور اپنی مصنوعات کی لاگت کو قابو میں رکھتے ہوئے عالمی منڈی میں مسابقتی پوزیشن بھی برقرار رکھنی ہے۔ یہ صورتحال آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک نئی پالیسی سازی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔