Business
اوکیناوا میں ڈیری صنعت کا مستقبل داؤ پر: بڑھتی ہوئی لاگت اور مشکلات
جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں ڈیری فارمرز شدید مالی مشکلات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اپنے کاروبار کو بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ سکولوں میں چھٹیوں کے دوران دودھ کی طلب میں نمایاں کمی نے مقامی ڈیری صنعت کو مزید بحران میں دھکیل دیا ہے۔
جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں واقع ڈیری فارمز ان دنوں ایک ایسے سنگین معاشی بحران کا شکار ہیں جس نے مقامی سطح پر دودھ کی پیداوار کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک مقامی فارمنگ خاندان کے مطابق، چارے کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں اور یوٹیلیٹی اخراجات میں ہونے والے اضافے نے ان کے منافع کو نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔ اوکیناوا کی شدید گرمی، جو حال ہی میں اپنے عروج پر رہی ہے، مویشیوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں دودھ کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ان عوامل نے مقامی ڈیری انڈسٹری پر دبائو بڑھا دیا ہے جہاں پہلے ہی فارمز کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
اس بحرانی صورتحال میں سکولوں کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اوکیناوا کے سکولوں میں بچوں کو فراہم کیے جانے والے دودھ کی طلب مقامی ڈیری فارمز کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہوتی ہے، تاہم سکولوں میں چھٹیاں ہونے کے باعث دودھ کی طلب میں شدید کمی واقع ہوئی ہے جس سے کسانوں کو اپنا دودھ ضائع ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ چونکہ تازہ دودھ کو لمبے عرصے تک ذخیرہ کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے طلب میں کمی براہ راست فارمرز کی جیب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ فارمنگ کمیونٹی اب حکومت سے فوری امداد اور سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ وہ اس مشکل دور سے نکل سکیں۔
اوکیناوا میں ڈیری فارمنگ کی صنعت کو درپیش چیلنجز صرف ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے خطے کی زرعی معیشت کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اگر ان مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو آنے والے وقتوں میں مقامی طور پر تیار ہونے والے دودھ کی سپلائی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے اور اوکیناوا کو درآمدی دودھ پر انحصار کرنا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر سبسڈی اور چارے کی درآمد پر ٹیکسوں میں چھوٹ کے ذریعے ہی اس اہم شعبے کو بچایا جا سکتا ہے۔ کسانوں کی تنظیمیں اب متحد ہو کر اس مطالبے پر زور دے رہی ہیں کہ خوراک کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیری انڈسٹری کو ترجیحی بنیادوں پر ریلیف پیکیج دیا جائے۔