Business
اٹلی میں پارمیسان پنیر کی ضمانت پر قرض کا انوکھا نظام اور درپیش خطرات
اٹلی میں صدیوں پرانا نظام جس میں پارمیسان پنیر کو بینکوں کے پاس قرض کے عوض ضمانت کے طور پر رکھا جاتا ہے، شدید ماحولیاتی خطرات کا شکار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کے اس پنیر کے معیار اور تحفظ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اٹلی کی معیشت میں پارمیسان پنیر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کے بینک طویل عرصے سے اس خاص پنیر کے بڑے پہیوں کو قرض کی ضمانت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس انوکھے نظام کے تحت، تقریباً 405 ملین امریکی ڈالر مالیت کا پارمیسان پنیر اٹلی کے خصوصی گوداموں میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ پنیر نہ صرف اطالوی ثقافت کا حصہ ہے بلکہ اسے ایک قیمتی اثاثے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے مقامی ڈیری فارمرز اور پنیر بنانے والے قرض حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، حال ہی میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نظام اب ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی خطرات کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق، پارمیسان پنیر کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے گوداموں کے اندر درجہ حرارت اور نمی کا ایک خاص توازن برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اگر گوداموں کا درجہ حرارت ایک خاص حد سے اوپر چلا جائے تو پنیر کے پکنے کا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے، جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو میں کمی آ جاتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی شدت اور غیر متوقع موسمی حالات نے ان قدیم ذخیرہ گاہوں کے درجہ حرارت پر قابو پانے کے نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اگر یہ پنیر خراب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف کسانوں اور پنیر بنانے والوں کو مالی نقصان ہوگا بلکہ بینکوں کی طرف سے دی گئی ضمانتوں کا نظام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
حکام اب ان گوداموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ پنیر کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے بچایا جا سکے۔ اس میں توانائی کی بچت کرنے والے کولنگ سسٹمز اور خودکار نگرانی کے آلات نصب کرنا شامل ہے جو درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی کو بھی فوری طور پر ریکارڈ کر سکیں۔ اس کے باوجود، صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی حدت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو اس روایتی مالیاتی نظام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ پارمیسان پنیر کا یہ نظام نہ صرف ایک تجارتی طریقہ کار ہے بلکہ اطالوی ورثے کی علامت بھی ہے، جسے بچانے کے لیے اب ٹیکنالوجی اور روایت کا ملاپ ضروری ہو چکا ہے۔