Pakistan
ہزارہ صوبے کا قیام: عبدالعلیم خان کی حمایت اور ملک میں نئے صوبوں پر بحث
وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان نے ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے مابین قومی ڈائیلاگ کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان نے ایک اہم بیان میں ہزارہ صوبے کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی بحث دوبارہ زور پکڑ گئی ہے۔ عبدالعلیم خان کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ مطالبہ شدت اختیار کر چکا ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے انتظامی یونٹس کی تقسیم ناگزیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزارہ کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کو دیکھتے ہوئے صوبے کا قیام عوامی امنگوں کی ترجمانی ہو سکتا ہے۔ اس بیان نے نہ صرف ہزارہ کے عوام میں ایک نئی امید پیدا کی ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی صوبائی خودمختاری اور انتظامی سہولت کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر ایک وسیع تر قومی ڈائیلاگ کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) سمیت متعدد سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا موجودہ انتظامی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت اب سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کن علاقوں کو نئے انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تاکہ ملکی گورننس کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
ملک کے دانشور اور مبصرین اس حوالے سے متفق نظر آتے ہیں کہ نئے صوبوں کا قیام صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر 123 تک صوبے بنانے کی تجاویز بھی ماضی میں زیر بحث رہی ہیں، جن کا بنیادی مقصد مرکزیت کے بجائے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔ تاہم، اس عمل میں سیاسی مفادات اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پارلیمان کے اندر اس معاملے پر باقاعدہ بحث کا آغاز ہوگا جس میں تمام سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات اور تجاویز سامنے رکھیں گی، تاکہ ایک متفقہ قومی لائحہ عمل طے پا سکے۔