LIVE
Loading Breaking News...

ترک صدر اردوان کا حماس اور فلسطینیوں کی حمایت میں سخت موقف

News Image
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے حماس کی جانب سے دکھائی گئی مخلصانہ یکجہتی کو سراہتے ہوئے اسرائیل کے غزہ پر جاری حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری مداخلت کرے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک بار پھر غزہ کی صورتحال پر سخت موقف اپناتے ہوئے حماس کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی ہے اور اسرائیل کی جانب سے جاری جارحانہ کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترک صدر نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حماس نے ہر ممکن حد تک مخلصانہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ اس کے برعکس اسرائیل غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری اور پرتشدد حملے کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہو چکی ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام صرف فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکی فلسطینی عوام کی جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا اور غزہ کے مظلوم شہریوں کی مدد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرتا رہے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی امداد کی شدید قلت ہے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اردوان نے مزید کہا کہ تاریخ ان ممالک کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو اسرائیلی جارحیت کے سامنے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ غزہ میں جاری خونریزی کا سلسلہ بند ہو سکے اور محصور عوام تک خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ ترک حکومت کی جانب سے یہ بیانات فلسطینی کاز کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں جس کے باعث ترکی خطے میں ایک نمایاں آواز بن کر ابھرا ہے۔