World
امریکی اتحادیوں اور ٹرمپ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا تجزیہ
خلیج فارس کے اتحادی ممالک کی جانب سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خطے کے ممالک اپنی سٹریٹجک خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔
خلیج فارس میں امریکی اتحادی ممالک کے حکام کی جانب سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل اور ان کی خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، خطے کے اہم دارالحکومتوں میں یہ تاثر تیزی سے پختہ ہو رہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے غیر متوقع اور یکطرفہ فیصلوں نے خلیجی ممالک کے طویل المدتی سٹریٹجک مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں کیے گئے فیصلوں نے خطے کے روایتی سکیورٹی ڈھانچے پر کئی سوالات اٹھائے ہیں جس کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں اب اپنی بقا اور تحفظ کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی ممالک اب مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے سٹریٹجک تعلقات کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک اب چین اور روس جیسے دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی اپنے روابط کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان کا دفاعی اور معاشی انحصار محدود نہ رہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں نے 'خلیج کے سٹریٹجک ہیج' (Strategic Hedge) کے تصور کو مزید ہوا دی ہے، جس کا مقصد امریکہ کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں متبادل شراکت دار تلاش کرنا ہے تاکہ خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات نے پورے خطے کے سیاسی توازن کو دوبارہ تشکیل دیا ہے۔ اگرچہ کچھ فیصلوں نے عارضی طور پر مخصوص اتحادوں کو تقویت دی، لیکن طویل مدت میں اس نے اعتماد کا ایک ایسا بحران پیدا کر دیا ہے جس سے نمٹنا کسی بھی آنے والی امریکی انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔ خلیجی حکام کا یہ مطالبہ ہے کہ امریکہ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو شفاف بنانا چاہیے تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غیر یقینی صورتحال سے بچا جا سکے۔
مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا خلیجی ممالک اپنی ان نئی پالیسیوں کے ذریعے کس حد تک خود مختار رہ پاتے ہیں۔ امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے مابین تعلقات میں آنے والی یہ سرد مہری اس بات کا اشارہ ہے کہ اب مشرق وسطیٰ کی سیاست روایتی بلاک پولیٹکس سے نکل کر زیادہ کثیر الجہتی انداز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے جاری بحث کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک بھی اپنی اگلی سفارتی چالوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔