World
برطانیہ میں غیر ملکی شہریوں کے لیے فلاحی مراعات پر پابندی کی تجویز
ریفارم یوکے کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے لیے فلاحی مراعات پر پابندی عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے جس میں یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہوں گے۔ اس اقدام کے لیے برطانیہ کو بریگزٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے پڑیں گے جو دیگر برطانوی شہریوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
برطانیہ کی سیاسی جماعت ریفارم یوکے نے ایک نئی اور متنازعہ تجویز پیش کی ہے جس کے تحت برطانیہ میں مقیم غیر ملکی شہریوں کو ملنے والی فلاحی مراعات اور بینیفٹس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس تجویز کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے جس میں یورپی یونین کے ممالک سے تعلق رکھنے والے وہ شہری بھی شامل ہوں گے جو برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ جماعت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملکی وسائل کا تحفظ کرنا اور برطانوی عوام کے مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ تاہم اس تجویز پر عمل درآمد سیاسی اور سفارتی سطح پر ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برطانیہ کو اپنے موجودہ 'بریگزٹ' معاہدے پر یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پالیسی کا ایک ممکنہ خطرہ یہ بھی ہے کہ اس کے ردعمل میں یورپی یونین بھی برطانوی شہریوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر سکتی ہے جو اس وقت یورپی ممالک میں مقیم ہیں۔ یوں یورپ میں مقیم برطانوی باشندے اپنے ان حقوق سے محروم ہو سکتے ہیں جو انہیں موجودہ معاہدوں کے تحت حاصل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ تجویز دراصل برطانیہ کی داخلی سیاست میں تارکین وطن کے معاملے پر سخت گیر موقف اپنانے کی کوشش ہے۔ اگرچہ ریفارم یوکے اس معاملے پر کافی پرعزم دکھائی دیتی ہے، لیکن حکومت کے لیے اس طرح کی تبدیلی کو قانونی شکل دینا ایک مشکل عمل ہوگا۔ عالمی سطح پر بھی اس قسم کی پالیسیاں انسانی حقوق کے اداروں اور تارکین وطن کے گروپوں کی جانب سے تنقید کا ہدف بنتی رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا برطانیہ کی دیگر بڑی سیاسی جماعتیں اس تجویز پر کیا ردعمل دیتی ہیں اور آیا اس معاملے پر کوئی باقاعدہ قانون سازی کی راہ ہموار ہوتی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ بریگزٹ کے بعد سے برطانیہ میں امیگریشن اور غیر ملکیوں کے حقوق ایک اہم بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ریفارم یوکے کی یہ نئی تجویز اسی بحث کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ جہاں ایک طرف جماعت اسے معاشی بہتری کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس کے اثرات برطانوی برآمدات، سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی ساکھ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس تنازعے کا مرکز صرف معاشی فوائد ہی نہیں بلکہ سیاسی نظریات کا تصادم بھی ہے جو مستقبل قریب میں برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔