World
زمبابوے کشتی حادثہ: ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش
زمبابوے میں شدید ہواؤں کے باعث کشتی الٹنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ہلاکتوں کی تعداد 84 ہو گئی ہے۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔
زمبابوے کی سرحد کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک بحری حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی کل تعداد 84 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافروں سے بھری ایک کشتی شدید ہواؤں اور طوفانی لہروں کی زد میں آ کر الٹ گئی۔ مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثہ زمبیا کی سرحد کے قریب پیش آیا، جہاں موسم کی خرابی کے باعث کشتی پر کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔
حادثے کے فوری بعد مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے ہنگامی امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ دریائے زیمبیزی کے اس علاقے میں کرنٹ اور ہواؤں کی شدت ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، جس کی وجہ سے توازن بگڑنا ناگزیر تھا۔ اب تک 84 لاشیں پانی سے نکالی جا چکی ہیں، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے غوطہ خوروں کی مدد لی جا رہی ہے۔
مقامی آبادی نے اس سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشتی رانی کے حفاظتی معیارات کو بہتر بنایا جائے۔ زمبابوے کی حکومت نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ فی الحال دریا کے اس حصے میں کشتی رانی پر سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حادثات اکثر کشتیوں کی خستہ حالی اور موسم کی پیش گوئی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید لاشوں کے ملنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم امدادی ٹیمیں اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس سانحے نے پورے خطے میں ایک سوگ کی فضا قائم کر دی ہے اور زمبابوے کے حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے۔