Technology
ستیہ نڈیلا کا بیان: ٹیکنالوجی میں جدت اور کامیابی کا فارمولا
مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا نے ٹیکنالوجی کی صنعت میں مسلسل تبدیلی اور نئی ایجادات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پرانی روایات کی بجائے صرف نت نئی ایجادات کو ہی کامیابی ملتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف نام اور مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ستیہ نڈیلا نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے صنعت کے بدلتے ہوئے مزاج پر روشنی ڈالی ہے۔ نڈیلا کے مطابق ٹیکنالوجی کی صنعت روایت کی پرستار نہیں بلکہ یہ صرف اور صرف جدت کو تسلیم کرتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلیکون ویلی سمیت دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اپنی بقا اور سبقت لے جانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ نڈیلا کا کہنا ہے کہ جو ادارے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہیں کرتے اور پرانی روایات سے جڑے رہتے ہیں، وہ بالآخر مارکیٹ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ماضی کے کئی بڑے نام جیسے کہ آئی بی ایم اور توشیبا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے ایک وقت میں ٹیکنالوجی کی دنیا پر حکمرانی کی، لیکن بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیکل لہروں کے ساتھ مطابقت پیدا نہ کرنے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ستیہ نڈیلا کی قیادت میں مائیکروسافٹ نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبوں میں جو پیشرفت کی ہے، وہ اسی فلسفے کی عملی تصویر ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ کسی بھی کمپنی کی کامیابی کا دارومدار اس کی نئی ایجادات اور صارفین کی ضروریات کو مستقبل کے تناظر میں سمجھنے پر ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اس دور میں، جہاں تبدیلیاں سیکنڈوں میں رونما ہو رہی ہیں، وہاں روایت پرستی صرف ایک رکاوٹ بن کر رہ گئی ہے۔ نڈیلا کا یہ پیغام نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں بلکہ ہر اس شعبے کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ڈیجیٹل تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق، جدت پسندی ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے کمپنیاں نہ صرف زندہ رہ سکتی ہیں بلکہ مارکیٹ میں اپنی قیادت بھی برقرار رکھ سکتی ہیں۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ ستیہ نڈیلا کا یہ بیان ٹیکنالوجی کی دنیا کے لیے ایک 'کمیونیک' ہے جو واضح کرتا ہے کہ جو سیکھے گا اور جو بدلے گا، وہی حکمرانی کرے گا۔