LIVE
Loading Breaking News...

ٹائیگا کے نئے اے آئی میوزک البم پر پچ فورک کی جانب سے زیرو ریٹنگ

News Image
معروف امریکی ریپر ٹائیگا کے نئے البم میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر موسیقی کے حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ معروف ویب سائٹ پچ فورک نے اس البم کو زیرو ریٹنگ دیتے ہوئے اسے تخلیقی ناکامی قرار دیا ہے۔
موسیقی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اب بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ حال ہی میں معروف امریکی ریپر ٹائیگا (Tyga) نے اپنے نئے البم میں مکمل طور پر اے آئی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا، جس کے بعد سے شائقین اور نقادوں کے درمیان ایک گرما گرم بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ پچ فورک (Pitchfork) کے نیوز ڈائریکٹر ایلکس سسکینڈ نے این پی آر کے روب شمٹز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس البم کا تنقیدی جائزہ لیا اور اسے موسیقی کے معیارات کے لیے ایک تشویشناک پیش رفت قرار دیا۔ پچ فورک کی جانب سے اس البم کو 10 میں سے 0 پوائنٹس (0.0/10) دیے گئے ہیں، جو موسیقی کی دنیا میں ایک انتہائی نایاب اور سخت ترین تنقیدی فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ نقادوں کا ماننا ہے کہ ٹائیگا کی جانب سے اے آئی کے بے جا استعمال نے موسیقی کی اصل روح کو ختم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹ میں انسانی جذبات اور تخلیقی صلاحیتوں کا جو مقام ہے، مصنوعی ذہانت اسے کبھی بھی مکمل طور پر نہیں اپنا سکتی۔ یہ البم صرف ایک مشینی تجربہ معلوم ہوتا ہے جس میں فنکار کا اپنا ذاتی تاثر مفقود ہے۔ اس واقعے نے پوری میوزک انڈسٹری میں اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا اے آئی ٹیکنالوجی مستقبل میں فنکاروں کی جگہ لے سکتی ہے؟ اگرچہ اے آئی پروڈکشن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ٹائیگا کا یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ محض ٹیکنالوجی کے سہارے تخلیق کیا گیا مواد شائقین کے دل جیتنے میں ناکام رہتا ہے۔ موسیقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹ کی بنیاد تجربات اور زندگی کے مشاہدات پر ہوتی ہے، جبکہ اے آئی صرف ڈیٹا پروسیسنگ کے اصولوں پر کام کرتی ہے جو آرٹ کی گہرائی پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا دیگر فنکار اے آئی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں یا کیا ٹائیگا کی یہ ناکامی دیگر گلوکاروں کے لیے ایک سبق ثابت ہوگی۔ فی الحال، یہ البم مصنوعی ذہانت کے میوزک انڈسٹری میں انضمام کے حوالے سے ایک بری مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں میں انسان کا متبادل تلاش کرنا فی الحال ممکن نہیں۔