LIVE
Loading Breaking News...

روبوٹ ٹیکسی: کیا بغیر ڈرائیور گاڑیوں کا دور آ گیا؟

News Image
خود کار گاڑیاں چلانے کا خواب اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے لیکن اس کی رسائی فی الحال چند مخصوص شہروں تک محدود ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے نقل و حمل کے شعبے میں ایک بڑا انقلاب قرار دے رہے ہیں۔
کئی دہائیوں سے خود کار اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں یعنی 'روبوٹ ٹیکسیوں' کو مستقبل کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی قرار دیا جا رہا تھا۔ سائنس فکشن فلموں میں نظر آنے والا یہ تصور اب عملی دنیا میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی دنیا کے ہر کونے میں دستیاب نہیں ہے، مگر چند بڑے شہروں میں مکمل طور پر خود کار ٹیکسی سروسز کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نقل و حمل کے ایک نئے اور انقلابی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان گاڑیوں کو جدید ترین سینسرز، کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ٹریفک کے بہاؤ میں شامل ہو سکیں۔ ابھی حال ہی میں کچھ منتخب شہروں میں روبوٹ ٹیکسیوں کی کمرشل سروس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے جہاں صارفین اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے ان گاڑیوں کو بک کر سکتے ہیں۔ ان ٹیکسیوں کا مقصد نہ صرف سفر کو آرام دہ بنانا ہے بلکہ انسانی غلطیوں کی وجہ سے ہونے والے سڑک حادثات کی شرح کو بھی کم کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ گاڑیاں روایتی ڈرائیوروں کی نسبت زیادہ محفوظ طریقے سے فیصلہ سازی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ تھکاوٹ، غنودگی یا جذبات سے پاک ہو کر ایک الگورتھم کے تحت کام کرتی ہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ میں ابھی کئی چیلنجز حائل ہیں۔ ان میں سب سے اہم قانونی پیچیدگیاں اور سڑکوں کے قوانین میں تبدیلی ہے، کیونکہ موجودہ ٹریفک قوانین بڑی حد تک انسانوں کی ڈرائیونگ کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، شدید موسم اور غیر متوقع ٹریفک صورتحال میں ان گاڑیوں کی کارکردگی پر اب بھی بحث جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ روبوٹ ٹیکسیاں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، لیکن آنے والے برسوں میں جیسے جیسے ڈیٹا اور تجربہ بڑھے گا، یہ گاڑیاں دنیا بھر کے شہروں کا معمول بن جائیں گی۔ مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مہنگی کاروں کی ملکیت کے رجحان کو کم کرے گی بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔ روبوٹ ٹیکسیوں کا کامیاب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہماری روزمرہ زندگی کے سب سے اہم شعبے یعنی سفر اور نقل و حمل میں اپنی جگہ مضبوطی سے بنا چکی ہے۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی آئے گی، بلکہ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اس جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کے لیے کتنی تیزی سے اپنے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرتے ہیں۔