LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد اور مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال

News Image
اسرائیلی کابینہ کے سخت گیر رویے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آباد کاروں کے پرتشدد حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی میں حالیہ مہینوں کے دوران ایک تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ دائیں بازو کی حکومت، جس کی قیادت نیتن یاہو کر رہے ہیں، کی پالیسیوں نے آباد کاروں کو ایک طرح کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہ تشدد نہ صرف فلسطینیوں کے جان و مال کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی تمام تر کوششوں کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق، ان حملوں کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنا اور وہاں غیر قانونی بستیوں کا دائرہ کار بڑھانا ہے۔ ماہرینِ امورِ خارجہ کے مطابق ان حملوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ انتہائی ضروری ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو اسرائیل پر واضح کرنا ہوگا کہ آباد کاروں کی حوصلہ افزائی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صرف بیانات دینے کے بجائے، ان ممالک کو عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے، جیسے کہ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد پر پابندیاں عائد کرنا اور اسرائیل کو دی جانے والی عسکری امداد کو انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کرنا۔ اگر بین الاقوامی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار رکھی تو خطے میں مزید خونریزی کا خدشہ بڑھ جائے گا جو پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ کو اس مسئلے پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔ وہ اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی مبصرین تعینات کیے جائیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اکثر اوقات آباد کاروں کے حملوں کے دوران خاموش تماشائی بنی رہتی ہے یا پھر حملہ آوروں کا ساتھ دیتی ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو روکا جائے اور آباد کاروں کی مسلح ملیشیاؤں کو غیر مسلح کیا جائے تاکہ فلسطینی شہری اپنی زمینوں پر سکون سے رہ سکیں۔