LIVE
Loading Breaking News...

ماں کی محبت: آٹسٹک بیٹے سے بات کرنے کے لیے بازو پر کی بورڈ کا ٹیٹو

News Image
کینیڈا سے تعلق رکھنے والی جیسیکا فلیچر نے اپنے آٹسٹک بیٹے کے لیے انوکھا قدم اٹھایا ہے۔ ان کا بیٹا بولنے کے بجائے کی بورڈ کے ذریعے بات چیت کرتا ہے اور ڈیوائس خراب ہونے پر ماں نے اپنے بازو پر ہی کی بورڈ کا ٹیٹو بنوا لیا۔
کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک ماں جیسیکا فلیچر نے اپنی مامتا کی ایک ایسی انوکھی مثال قائم کی ہے جس نے پوری دنیا کے دل جیت لیے ہیں۔ ان کا 11 سالہ بیٹا ہنٹر آٹزم کا شکار ہے اور بولنے سے قاصر ہے۔ ہنٹر اپنی بات سمجھانے کے لیے ایک خاص اے اے سی (AAC) ڈیوائس کا استعمال کرتا ہے جس پر ٹائپ کر کے وہ اپنے جذبات اور ضروریات کا اظہار کرتا ہے۔ حال ہی میں جب یہ ڈیوائس کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ گئی تو ہنٹر کے لیے اپنی ماں سے بات کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ اس مشکل صورتحال میں جیسیکا فلیچر نے ہمت نہیں ہاری اور ایک ایسا حل نکالا جو نہ صرف جذباتی ہے بلکہ عملی بھی ہے۔ جیسیکا نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بازو پر ہی ایک کی بورڈ کا ٹیٹو بنوائیں گی تاکہ ان کا بیٹا جب بھی چاہے ان کے جسم پر بنے کی بورڈ کے حروف کو چھو کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکے۔ یہ ٹیٹو کوئی عام ٹیٹو نہیں بلکہ ایک ماں کی اپنے بچے کے لیے لازوال محبت کی علامت ہے۔ جیسیکا کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اب پہلے سے زیادہ پرسکون محسوس کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر اس کی الیکٹرانک ڈیوائس خراب بھی ہو جائے تو اس کی ماں کا بازو ہمیشہ اس کے لیے دستیاب ہے جہاں سے وہ اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں دنیا بھر کے لوگ اس ماں کی سوچ کو سراہ رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات اور والدین کا کہنا ہے کہ آٹسٹک بچوں کی پرورش کے لیے غیر روایتی طریقے اپنانا بہت ضروری ہوتا ہے اور جیسیکا کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کی تکلیف کو سمجھنے کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے۔ اس ٹیٹو کی وجہ سے نہ صرف ہنٹر کی مشکلات میں کمی آئی ہے بلکہ ماں اور بیٹے کے درمیان رشتہ بھی مزید مضبوط ہوا ہے۔ جیسیکا فلیچر کی یہ کہانی ان تمام والدین کے لیے مشعلِ راہ ہے جو خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی انسان کی قوتِ ارادی اور محبت سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ ہنٹر کا بولنا مشکل ہے لیکن اس کی ماں نے اسے ایک ایسی زبان دے دی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ محبت کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور ماں کی مامتا کی کوئی حد نہیں ہوتی۔