Technology
گرافکس کارڈز کی قلت: 2026 میں پی سی گیمرز کے لیے مشکلات میں اضافہ
پی سی پارٹنر نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 کے دوسرے نصف حصے میں بجٹ لیول گرافکس کارڈز کی دستیابی میں مزید کمی آئے گی۔ اس بحران کے نتیجے میں پی سی گیمنگ اور کمپیوٹر پارٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں گرافکس کارڈز بنانے والی معروف کمپنی 'پی سی پارٹنر' (PC Partner) نے ایک تشویشناک پیشگوئی کی ہے، جس کے مطابق سال 2026 کی دوسری ششماہی میں بجٹ لیول گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زیوٹیک (ZOTAC) کی مالک کمپنی پی سی پارٹنر کا کہنا ہے کہ سپلائی چین میں موجود رکاوٹوں اور اجزاء کی کمی کی وجہ سے صارفین کو کم قیمت والے گرافکس کارڈز کے حصول میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ یہ خبر ان گیمرز اور کمپیوٹر صارفین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو سستی قیمتوں پر اپنے سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے کے منتظر تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قلت صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر کمپیوٹر پرزہ جات کی فراہمی میں درپیش مسائل کا نتیجہ ہے۔ کم قیمت گرافکس کارڈز عام طور پر درمیانے درجے کے صارفین اور طلبہ کی اولین ترجیح ہوتے ہیں، اور ان کی مارکیٹ میں کمی کا مطلب ہے کہ سستا گیمنگ پی سی بنانا اب پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب مارکیٹ میں بجٹ آپشنز ختم ہو جاتے ہیں، تو ہائی اینڈ ہارڈویئر کی مانگ میں بھی تبدیلی آتی ہے جس سے مجموعی طور پر پی سی مارکیٹ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کمپوننٹ کا یہ خسارہ صرف چند ہفتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ 2026 کے اختتامی مہینوں تک اس کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پی سی گیمنگ انڈسٹری اور ہارڈویئر مارکیٹ سے وابستہ افراد نے حکومتوں اور مینوفیکچررز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپلائی چین کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صارفین کو مارکیٹ میں من مانی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو بالآخر گیمنگ کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ثابت ہوگا۔