World
ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی تعاون میں کمی کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی کوششوں کا حصہ بننے سے انکار کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کر رہا ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں امریکی دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق یہ اقدام جنوبی کوریا کی جانب سے حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگی کوششوں میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس فیصلے کو سفارتی اور عسکری تعلقات کے دوبارہ جائزے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور سیول کے درمیان دہائیوں سے جاری دفاعی شراکت داری میں اس طرح کی کشیدگی غیر معمولی ہے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے معاملے پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ امریکی مفادات کے منافی سمجھا گیا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے براہ راست فوجی تعاون کو محدود کرنے کا عندیہ دیا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری اتحاد تاحال برقرار ہے، تاہم مشقوں میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اب اپنی دفاعی ترجیحات کو بدل رہا ہے اور ان ممالک پر زیادہ انحصار کرے گا جو اس کے عالمی ایجنڈے کی حمایت کرتے ہیں۔
اس پیش رفت نے مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ فیصلہ صرف ایک عارضی دباؤ ہے یا پھر امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں طویل مدتی تبدیلی لا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر محتاط ردعمل دیا گیا ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر فوجی مشقوں کا تسلسل اسی طرح متاثر ہوتا رہا تو جزیرہ نما کوریا میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے جس سے چین اور شمالی کوریا کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا دونوں ممالک سفارتی سطح پر اپنے اختلافات کو حل کر پائیں گے یا یہ دوری مزید بڑھ جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے حلیف ممالک سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ امریکی عالمی پالیسیوں کی مکمل حمایت کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں یہ ایک نازک موڑ ہے جہاں معاشی اور عسکری مفادات کا ٹکراؤ سفارتی کشیدگی کو جنم دے رہا ہے۔