LIVE
Loading Breaking News...

اینٹی فلاک مہم: حکومتی نگرانی اور پولیس کو خصوصی ہدایات

News Image
حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والے اینٹی فلاک مواد اور اکاؤنٹس پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے مقامی پولیس کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے ایونٹس کے حوالے سے الرٹ رہیں۔
حکومتی نگرانی کے مراکز کی جانب سے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والے 'اینٹی فلاک' پوسٹس اور اکاؤنٹس پر کڑی نظر رکھنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے مقامی پولیس کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان مواد کے پیچھے چھپے مقاصد اور آئندہ منعقد ہونے والے 'ڈی فلاک' ایونٹس سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے پولیس فورسز کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خاص طور پر آئندہ ہفتے شروع ہونے والے ایسے پروگراموں کی نگرانی کریں تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اینٹی فلاک تحریک سے متعلق مواد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں نے اس معاملے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ ان ایونٹس کے ذریعے عوام کو متحرک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جنہیں حکومت اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کے تحت دیکھ رہی ہے۔ انٹیلی جنس اور مانیٹرنگ سیلز اس وقت تمام مشکوک سرگرمیوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی نظم و نسق کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ پولیس افسران کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ نہ صرف آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں بلکہ زمینی سطح پر بھی ان ایونٹس کے انعقاد کے مقامات کی نشاندہی کریں۔ حکومتی حکام کے مطابق، ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی معلومات یا مہمات کا اثر تیزی سے زمین پر منتقل ہوتا ہے، اسی لیے بروقت کارروائی ناگزیر ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم سیکیورٹی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی صورت میں سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں کا اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ حکومتی نگرانی عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہے، جبکہ دیگر اسے اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ بہر حال، انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات نے اس بحث کو مزید گرم کر دیا ہے کہ آن لائن مہمات کے خلاف حکومتی ردعمل کس حد تک محدود یا وسیع ہونا چاہیے۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ہدایات پر کس طرح عمل درآمد کرتے ہیں۔