LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان: 284 غیر ملکی شہری آن لائن فراڈ کے الزام میں گرفتار

News Image
پاکستان بھر سے جعلی شناختی دستاویزات اور آن لائن دھوکہ دہی میں ملوث 284 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے تاکہ ان کی ڈیپورٹیشن کا عمل شروع کیا جا سکے۔
پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی پروفائلز اور آن لائن فراڈ میں ملوث 284 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ملک میں قیام کے دوران غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور سوشل میڈیا سمیت مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینے کا کام کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ملک میں جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد کو ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ جیل منتقلی کے بعد ان غیر ملکیوں کی ڈیپورٹیشن یعنی ملک بدری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ اور امیگریشن حکام نے اپنی رپورٹ مرتب کر لی ہے تاکہ ان افراد کو جلد از جلد ان کے آبائی ممالک بھیجا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور سائبر کرائم میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ گروہ منظم انداز میں جعلی شناختی دستاویزات استعمال کر کے شہریوں کو لوٹنے میں مصروف تھا۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن فراڈ کرنے والے غیر ملکیوں کی موجودگی ملک کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی۔ اس لیے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کا ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس اور ایف آئی اے اس معاملے میں مزید تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ان نیٹ ورکس میں ملوث مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جا سکے جو ان غیر ملکیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرتے رہے۔