Business
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں ہفتے کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی تناؤ نے عالمی توانائی کے بازاروں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری فوجی تصادم کے خدشات نے سپلائی چین کے حوالے سے تحفظات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں سستی واقع ہوئی ہے، جو عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی دھمکیوں اور ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے امکانات نے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں تیزی نے خطے کے استحکام کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ تجارتی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا آبنائے ہرمز کی صورتحال تیل کی رسد کو مزید محدود کر دے گی یا نہیں۔ فی الحال منڈی کا رجحان ملا جلا ہے، تاہم مستقبل قریب میں قیمتوں کا انحصار خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری صورتحال پر ہوگا۔ عالمی ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔