LIVE
Loading Breaking News...

دی پارک پے ایپ: بیرون ملک رقوم بھیجنے کا نیا اور تیز ترین ذریعہ

News Image
دی پارک پے ٹیکنالوجیز نے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن لانچ کی ہے جس کا مقصد بین الاقوامی پیسوں کی منتقلی کو تیز اور سستا بنانا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی صارفین کو سرحد پار رقوم کی ترسیل میں درپیش پیچیدگیوں سے نجات دلانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
کراس بارڈر پیمنٹس کی معروف کمپنی 'دی پارک پے ٹیکنالوجیز لمیٹڈ' نے حال ہی میں ایک جدید ڈیجیٹل ایپلیکیشن کا اعلان کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر رقم کی منتقلی کے عمل کو تیز تر، آسان اور زیادہ کفایت شعار بنانا ہے۔ یہ نئی ایپلیکیشن خاص طور پر ان افراد اور کاروباری اداروں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے جو باقاعدگی سے سرحد پار رقوم کی منتقلی کرتے ہیں اور روایتی بینکنگ نظام کی پیچیدگیوں اور زیادہ اخراجات سے تنگ آ چکے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، اس ایپ کا بنیادی فلسفہ مالیاتی رسائی کو عام کرنا اور عالمی سطح پر رقوم کی ترسیل کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔ اس نئی ڈیجیٹل سروس کی خاص بات اس کا صارف دوست انٹرفیس اور جدید سیکیورٹی فیچرز ہیں، جو صارفین کو ہر قسم کے مالیاتی لین دین میں تحفظ کا احساس دلاتے ہیں۔ ایپلی کیشن کے ذریعے رقوم کی منتقلی نہ صرف کم وقت میں مکمل ہوتی ہے بلکہ اس میں چھپے ہوئے اخراجات (hidden charges) کو بھی ختم کیا گیا ہے، جس سے عام صارف کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں لوگ فوری خدمات کے متلاشی ہیں، دی پارک پے کی یہ پیشکش مالیاتی شعبے میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایپ بین الاقوامی کرنسی کے تبادلے کے ریٹس کو بھی مسابقتی رکھنے میں مدد دے گی، جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی رقوم وطن بھیجنے میں آسانی ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دی پارک پے کا یہ اقدام عالمی فین ٹیک مارکیٹ میں ایک سخت مقابلہ پیدا کرے گا۔ اس ایپ کے متعارف ہونے سے صارفین اب کسی بھی وقت، کہیں بھی اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے رقم بھیجنے کے قابل ہو جائیں گے، جس کے لیے انہیں بینکوں کی طویل لائنوں یا پیچیدہ کاغذی کارروائی کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ کمپنی آنے والے مہینوں میں اپنی خدمات کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ صارفین اس جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکیں۔ اس ٹیکنالوجیکل جدت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مستقبل کے لیے ایک نئے معیار کو قائم کر دیا ہے، جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی مالیاتی لین دین مزید آسان اور محفوظ ہو جائے گا۔